شمع ختم نبوت کے پروانوں کا شاندار اجتماع

Print Friendly, PDF & Email

تحریر:محمداسامہ قاسم
عقیدہ ختم نبوت ایک بدیہی عقیدہ ہے جس پر کسی بھی دلیل کی ضرورت نہیں، ہرسلیم الفطرت اور سلیم العقل انسان اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ حضورت خاتم النبیین ﷺ اللہ کے آخری رسول و نبی ہیں۔آپ ﷺ کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا۔اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ دجال اور کذاب تو ہوسکتا ہے نبی نہیں ہوسکتا۔ ایک سو آیاتِ قرآنیہ اور سینکڑوں احادیث مبارکہ عقیدہ ختم نبوت پر دال ہیں۔ اس کے باوجود ہر دور میں کچھ خبیث الفطرت عقل و شعور سے عاری لوگوں نے اس عقیدہ پر نقب لگانے کی کوشش کی تو شمع ختم نبوت کے پروانوں نے اس فتنہ کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے انجام بد سے دوچار کیا۔ 
انیسویں صدی کے اختتام اور بیسیوں صدی کے آغاز میں برصغیر پاک و ہند میں انگریز نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت پر نقب لگانے کیلئے غلام قادیانی کو کھڑا کیا تو اس فتنہ کی سرکوبی کیلئے اس دور کے مقتدر علماء طلباء اور ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے شمع ختم نبوت کے پروانے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اپنا سب کچھ لوٹانے کا عزم لیکر میدان میں برسرپیکار ہوئے۔
قید وبند کی صعوبتیں ، بیڑیاں،ہتھکڑیاں حتی کے تختہ دار پر لٹکنا بھی ان کو اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹاسکا۔ تقسیم ہندسے قبل اور بعد میں بھی تحریک تحفظ ختم نبوت میں کسی قسم کی لچک پیدا نہیں ہوئی بلکہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد اس تحریک میں اور تیزی پیدا ہوئی خصوصاً1953ء کی تحریک ختم نبوت جس کی قیادت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کر رہے تھے۔ اس تحریک میں غلام قادیانی اور اس کے پیرو کاروں کو آئینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کے مطالبہ پر دس ہزار پروانوں نے اپنی جانوں کے نذانے پیش کیے اس وقت بظاہر تحریک کی ناکامی کے باوجود تحریک کامیابی کی طرف رواں دواں ہوئی۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شہدا ختم نبوت کے خون کی برکت ،اکابر علماء کی مسلسل محنت اور قربانیوں کے نتیجہ میں بالآخر1974ء میں قادیانی پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں طویل بحث مباحثہ کے بعد بالا تفاق اقلیت قرار پائے اور یوں بحمداللہ عقیدہ ختم نبوت کو آئینی دستوری تحفظ نصیب ہوا۔ اس کے بعد 1984ء میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کو اسلامی شعائر کے استعمال سے روک دیا گیا۔ یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے اکابر علماء کو کامیابی عطاء فرمائی۔ تاہم قادیانیوں نے آج تک اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی جماعت کو مستحکم اور مضبوط کرنے کی کوشش کی اور مختلف ناپاک تدبیروں سے عام سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے کیلئے اپنے دجل و فریب کے جال پھیلائے۔ یہ لوگ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے کبھی کہیں اور کبھی کہیں اپنی فطری خباثت اور گندگی کو پھیلاتے رہتے ہیں آج بھی کئی مسلمان جوان کی اصل حقیقت سے آگاہ نہیں ان کے ڈالے ہوئے ارتدادی جالوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ خصوصاً موجودہ دور میں جب سے سوشل میڈیا کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے یہ صورت حال مزید گھمبیر ہوتی جارہی ہے اور روز افزوں مقدس شخصیات کی اہانت کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔اور دشمنانِ اسلام کی سرگرمیاں تیز ہورہی ہیں یقیناًیہ صورت حال اکابر علماء کیلئے بالخصوص اور ختم نبوت کے پروانوں کیلئے بالعموم انتہائی خوفناک اور تشویشناک ہے۔ عام مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت اور قادیانیوں کے اصل اور مکروہ چہرہ سے پردہ ہٹانا اہل اسلام کی ذمہ داری ہے۔
اسی فکراور جذبے کے تحت 8دسمبر بروز ہفتہ کو جامعہ صدیقیہ گلستان کالونی مصطفی آباد اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اشتراک سے آٹھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس لاہور کے علاقہ مصطفی آباد کینٹ میں منعقدہوئی۔ 
کانفرنس کیلئے مقررہ تاریخ اور مقررہ وقت کے مطابق مسجد کے خوبصورت ہال میں شرکاء کے لئے وسیع انتظام کیا گیا تھا ،برآمدے کے ساتھ ساتھ باہر صحن میں کرسیاں لگائی تھیں ، کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی عزیز الرحمان نے کی اور نقابت کے فرائض حافظ محمد عمر یعقوب اورراقم (محمداسامہ قاسم)نے اپنے مخصوص اور گرج دار آواز میں سرانجام دئیے۔
کانفرنس کا آغاز حضرت مولانا قاری عبد الرشید خان صاحب کی تلاوت اور ثناخوان مصطفی حافظ محمد افتخارقصوری کی حمدونعت سے ہوا۔زینت القراء قاری احسان اللہ فاروقی صاحب نے اپنے مخصوص ومقبول انداز میں تلاوت کلام اللہ سے محفل میں نورانی ماحول پیدا کیا۔ 
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنماشاہین ختم نبوۃ حضرت مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ قادیانیت ایک ناسور ہے جس سے خود بچنا اور دوسرے اہل اسلام کو بچانا تمام اہل اسلام کی ذمہ داری ہے یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کیلئے لگایا گیا جس نے امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کیلئے امت کے متفقہ عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈال کر امت مسلمہ کے شیرازہ کو بکھیرنے کی ناپاک جسارت کی ہے، لیکن اللہ کے فضل و کرم اور امت مسلمہ کی بیدار مغز قیادت کی بروقت کاروائی کی وجہ سے یہ فتنہ اپنے ناپاک عزائم میں ناکام ہوا اور ان شاء اللہ ناکام و نامراد ہی رہے گا۔
1953ء کی تحریک ختم نبوت پاکستان کی تاریخ میں سب سے نمایاں ہے تمام مکاتب فکر کی مرکزی قیادت نے اس تحریک مقدس میں شرکت کو یقینی بنا کر اظہار یکجہتی اور اتحاد کا واضح ثبوت دیا امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا ابوالحسنات قادری نے مل کر اس تحریک کو منظم و متحرک کیا جس میں دس ہزار فرزند اسلام نے نبی رحمت حضرت محمد ﷺ کے منصب رسالت وختم نبوت پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے پھر تو اس تحریک نے عروج پکڑنا شروع کیا اور ہر طرف ختم نبوت کے ترانے گونجنے لگے بخاری کے کارواں میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا منبر ومحراب ہوں یا جیل کی کال کوٹھڑیاں شہر کا باسی ہو یا دیہات کا رہائشی ہر طرف ختم نبوت کے دیوانے رکھوالے اور محافظ جاں نثاری کے جذبہ کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کرنے لگے۔1974ء میں یہ مبارک تحریک رنگ لائی اور اپنے مقصد عظیم کو پالیا اسلامی جمہوریہ پاکستان نے آئینی طور پر اراکین قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر روح محمد ﷺ کو خوش کیا اور اپنے لئے شفاعت رسول کی کرن کو روشن کرگئے۔بعدازاں 1984ء میں صدر ضیاء الحق نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کو شعار اسلام کے استعمال سے روک دیا ختم نبوت کا محافظ پاکستان کا یہ قانون گزشتہ چوالیس سال سے عاشقان رسالت کی کامیابی اور منکرین ختم نبوت کی پسپائی کا واضح ثبوت ہے منکرین ختم نبوت نے جب بھی اس قانون کو چھیڑنے کی جسارت کی ہے تب ہی محافظین ختم نبوت نے میدان عمل میں انہیں آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے شکست فاش سے دوچار کیا ہے۔
موجودہ دورحکومت میں اس قانون کے ساتھ چھیڑخوانی کی گئی اکتوبر2017ء پاکستان میں ایک مذموم سازش بے نقاب ہوئی جس میں قادیانیوں کیخلاف بنائے گئے 1974ء اور 1984ء کے قوانین کو غیر مؤثر بنانے کیلئے خفیہ پلاننگ کے تحت ختم نبوت حلف نامے میں ردوبدل کرنے کی کوشش کی گئی جس پر پورے پاکستان میں تاریخی مظاہرے کیے گئے امت مسلمہ کے جذبات واحساسات کو اجاگر کرنے کیلئے پرنٹ ،الیکٹرونک اور سوشل میڈیا نے خوب کردار ادا کرکے اپنے سچے عاشق رسول ہونے کا ثبوت دیا جس کی بنا پر منکرین ختم نبوت اور ان کے حواریوں کو شکست ہوئی مگر اب پھر آسیہ مسیح والے کیس کے ذریعے تمام مسلمانوں کے ایمانی جذبات کو مجروح کیا گیا 
انہوں نے کہا کہ رسالت مآب ﷺ سے ہرایک مسلمان کا یہ اٹوٹ رشتہ اسلام کے روز اول سے قائم ہے اور اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کرہ خاک پر کلمہ توحید کا ایک بھی اقراری موجود رہے گا عشق رسالت ﷺ ایک ایسا لافانی جذبہ ہے جو قیاس و گمان و ہم سے ماوراء ہے اور جسے محبت و عقیدت کے کسی بھی مصنوعی پیمانے پر نہیں ماپا جاسکتا۔اس جذبہ کا تقاضا جب سامنے آتا ہے تو ہر مسلمان ’’با محمد ہوشیار‘‘کی لکیر کھینچ کروہیں ڈٹ جاتا ہے۔ 
اس کی زندہ مثال چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وہ ریمارکس ہیں جو انہوں نے سوشل میڈیا پر مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی کے معاملہ کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اور سب سے اہم مقدمہ قرار دیتے ہوئے گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا۔اور آنکھوں سے برستے آنسوؤں کی رم جھم میں اپنی اندرونی اضطرار اور بے قراری کا اظہار کرکے اپنے آپ کو شفاعت محمدی کا حقدار ٹھہرادیا۔ اللہ ان کو مزید ہمت اور استقامت عطا فرمائے اس معاملہ پر ہماری تمام تر ہمدردیاں جسٹس صدیقی کے ساتھ ہیں۔ پارلیمنٹ میں ناموس رسالت آئین میں ترمیم کے حوالہ سے مولانا فضل الرحمان کی پارلیمانی کوششوں کو خوب سراھا۔ جو ہر نازک موقع پر آئین پاکستان میں موجود اسلامی شقوں کے دفاع میں سد سکندری ثابت ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں قانون ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی کاوشوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
کانفرنس سے حضرت مولانا مفتی عبد الواحد قریشی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا قادیانی تو اپنے نام سے ہی جھوٹا ثابت ہوتا ہے آگے کسی اور شق پر بات کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ کیونکہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نام مفرد ہیں اور ہمیشہ نبی کا نام مفرد ہوتا ہے۔ اور اس بدبخت کذاب کا نام مرکب ہے غلام احمد۔
ہر نبی پر وحی ااس کی قومی زبان میں نازل ہوتی ہے اور وہ ایک ہی زبان ہوتی ہے اور یہ بدبخت کہتا ہے کہ میرے اوپر وحی سات زبانوں میں نازل ہوتی ہے۔ اس کے جھوٹا ہونے کیلئے اس کا نام ہی کافی ہے اس لیے قادیانیوں سے کہوں گا کہ اس مفتری کذاب سے اپنا دامن چھڑا کر سچے نبی محمد عربی ﷺ کے دامن ختم نبوت سے وابستہ ہوکر دنیا آخرت کی کامیابیاں سمیٹ لو۔ نہیں تو ذلت و رسوائی اور ناکامی و نامرادی تمہارا مقدر ٹھہرے گی۔ انہوں عقیدہ ختم نبوت کو مدلل انداز میں بیان کیا 
مولانا یعقوب فیض صاحب نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا دفاع در حقیقت اسلام کا دفاع ہے قادیانی فتنہ سے امت مسلمہ کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کانفرنس میں مولانا شاہد عمران عارفی اورثناخوان مصطفی حافظ محمد عمران نقشبندی نے اپنے نعتیہ کلام سے عوام کے دلوں کو گرمانے کے ساتھ ساتھ ختم نبوت کا ترانہ بھی خصوصی طوپر پیش کیا۔
ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اسلام قاری علیم الدین شاکر صاحب نے سیرت الرسول ، تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی ،ان کا کہنا تھا کہ قادیانی جتنی مرضی کوششیں کرلیں اللہ کے فضل سے اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا نہیں کرسکتے ،ختم نبوت کے محافظین پہلے بھی بیدارتھے اور اب بھی بیدار ہیں اور رہتی دنیا تک قادیانیت کا تعاقب کرتے رہیں گے۔
کانفرنس کے روحِ رواں اورمجاہد ختم نبوت مولانا محمد یعقوب فیض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ اعراف میں فرمایاکہ اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے’’اے لوگو میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف ‘‘اس فرمان کی رو سے حضور ﷺ تمام انسانیت کیلئے آخری رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اب جو جو دامن ختم نبوت سے وابستہ ہوتا جائے گا وہ انسانیت کے دائرہ میں داخل ہوتا جائے گا۔ اور جو دامن نبوت سے دور ہوگا وہ انسانیت سے دور ہوگا۔ 
لہٰذا ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ جو انسانیت کے دائرہ سے باہر ہیں وہی انسانیت کش اور انسانیت دشمن دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہیں اور اپنی تفتیش کا رخ صحیح سمت کرکے ایسے انسانیت سے عاری دہشت گردوں کو ڈھونڈ کر کیفرکردار تک پہنچایا جائے تاکہ ملک کا امن بحال ہوسکے۔ اور جو رحمت اللعالمین کے دامن رحمت سے وابستہ ہیں وہ تو وضوء4 کا پانی بھی بے جا نہیں بہاتے خون کی ہولی کھیلنا تو دور کی بات ہے اپنی تفتیش کا رخ بدل کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ خون انسانیت سے کس کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب جب افتاد پڑی تھی تو تب آپ کو بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کے سایہ عاطفیت میں پناہ ملی تھی اور اب بھی دنیا آخرت میں اس سے بڑھ کر کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ روضہ رسول ﷺ پر کیے گئے وعدے کو ایفاء کرتے ہوئے د شمنان ناموس رسالت ﷺکو کیفرد کردار تک پہنچاکر روضہ رسولﷺکے سایہ عاطفت میں پناہ گاہ حاصل کرلو اسی میں دنیا آخرت کی کامیابی ہے۔
کانفرنس میں یہ قرار داد پیش کی گئی 
یہ عظیم الشان اجتماع حکومت وقت سے پروزور مطالبہ کرتا ہے کہ( 1)ملک میں سول اور فوج میں کلیدی عہدوں پر موجود قادیانیوں کو فی الفور برطرف کیا جائے۔(2) 295۔Cکے قانون کے خلاف سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے اور اس قانون کے بہر حال تحفظ کا دوٹوک اعلان کیا جائے۔(3)ادارہ فزکس کا ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔(4)چناب نگر میں ’’ریاست در ریاست‘‘کا ماحول ختم کیا جائے۔ حکومت کی دستوری اور قانونی رٹ بحال کرنے کے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور متوازی عدالتیں ختم کرکے ملک کے قانونی نظام کی بالا دستی بحال کی جائے۔ (5)قادیانی چینلز کی نشریات کا نوٹس لیا جائے اور ملک کے دستور اور قانون کے تقاضوں کے منافی نشریات پر پابند لگائی جائے۔(6)قادیانی تعلیمی ادارے، انہیں واپس کرنے کی پالیسی عوامی جذبات اور ملک کی نظریاتی اساس کے منافی ہے۔حکومت اس طرز عمل پر نظر ثانی کرے اور قوم کو اعتماد میں لے۔ان تمام مطالبات کی پورے مجمع نے ہمایت کی علماء ومشائخ کی کہکشاں سے سجاخوبصورت اسٹیج ، بہترین ساؤنڈسسٹم،جابجارہبری کرتے نجوم قرآنی، پروگرام کی کامیابی کی ضمانت بنے ،میزبان مکرم مولانامحمدیعقوب فیض کی محنت،خلوص ،مینجمنٹ،مہمان نوازی،نظامت ،خطابت، محبت نے پروگرام میں نورانیت روحانیت اورشجاعت کے رنگ بکھیردئیے، استاذالعلماء حضرت مولادوست محمد صاحب کی پرسوزدعا پر پروگرام کااختتام ہوااور پروگرام کے بعد آنے تمام مہمانوں کی ضیافت بھی کی گئی۔
مقامی علماء کرام میں حضرت مولانا مفتی محمدریاض جمیل،قاری محمد شریف،مولانا محمد افضال،مولانانوفل ربانی ، مولانا محمد علی اورحفیظ چوہدی صاحب مرکزی صدر اسلامک رائٹرزموومنٹ پاکستان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

594 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/ydbm2qup
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *