شام کے مہاجر کیمپ سے عراقی مہاجرین کا واپس جانے سے انکار

Print Friendly, PDF & Email

باوجود اس بات کے کہ اُن کے شہروں اور قصبہ جات کو داعش کے شدت پسندوں سے واگزار کرایا گیا ہے، شام میں بسنے والے متعدد عراقی مہاجرین کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کی جانب لوٹنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

شمال مشرقی شام میں ‘الھول کیمپ’ میں ‘وائس آف امریکہ’ کے ساتھ انٹرویو کے دوران عراقی مہاجرین نے مستقبل قریب میں اپنے وطن کی جانب ممکنہ واپسی کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا۔

ایک عراقی مہاجر خاتون، جہان نجم نے بتایا کہ ”میرے پاس عراق واپسی کے لیے رقم نہیں ہے”۔ وہ عراق کے صوبہ انبار کے ایک گائوں میں رہا کرتی تھیں، جہاں داعش کے حملے کے بعد وہ 2015ء میں جان بچا کر بھاگ نکلیں۔

بقول اُن کے، ”اب عراق میں میرے خاندان کا کوئی فرد باقی نہیں رہا، جب کہ اس کیمپ میں میری چند خواتین رشتے دار رہتی ہیں”۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ”اب یہ بہت ہی مشکل بات ہوگی کہ واپس جائوں اور پھر سے عراق میں بسنے کی کوشش کروں، جہاں میرے روزگار کی کوئی ضمانت نہیں ہے”۔

ایک اور مہاجر خاتون نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ شامی کیمپ میں روز مرہ زندگی مشکل ہے، لیکن پھر بھی عراق میں جس طرح کی بے یقینی ہے، یہ تب بھی بہتر ہے۔

ام فاطمہ نے کہا کہ ”میری ایک اپاہج بیٹی ہےجسے مستقل طبی امداد کی ضرورت ہے۔ کم از کم میں امدادی تنظیموں سے اُس کے لیے چند دوائیاں تو حاصل کر لیتی ہوں”۔

اُنھوں نے مزید کہا، ”لیکن عراق میں گزر بسر بہت دشوار ہے۔ اگر میں واپس جاتی ہوں تو میں اِسے ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں لے جا سکتی”۔

‘الھول کیمپ’ اپریل 2015ء میں قائم کی گئی تاکہ عراق میں تشدد کی کارروائیوں سے جان بچا کر بھاگ نکلنے والوں کو پناہ دی جا سکے، جہاں داعش نے عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ جمایا تھا۔

فی الوقت، اس کیمپ میں اندازاً 10،000 عراقی مہاجر مقیم ہیں؛ جب کہ ہزار کے قریب مزید عراقی مہاجر شام کے دیگر دو کیمپوں میں رہتے ہیں۔

‘الھول’ نیم خودمختار مقامی کُرد انتظامیہ کی تحویل میں قائم کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین، ‘یو این ایچ سی آر’ کیمپ میں مقیم افراد کو امداد فراہم کرتا ہے۔ ساتھ ہی مقامی امدادی تنظیمیں بھی مہاجرین کی مدد کرتی ہیں۔

تاہم، مقامی امدادی تنظیمیں امدادی اشیا کی کمی کی شکایت کرتی ہیں، جو کیمپ کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں۔

‘کُرد ریڈ کریسنٹ’ کے مسعود ریمو کہتے ہیں کہ ”یہاں ہمارے وسائل محدود ہیں”۔

33 total views, 9 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y9afmbyn
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *