سپریم کورٹ کا فیصلہ۔ عمران خان کا بیانیہ

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
ایسے عدالتی نظام پر افسوں جہاں برسوں کیس چلتا ہے اور پھر فیصلہ ہوتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو رہائی کا پروانہ دینے والی عدالتیں ، سود کے خلاف حکم امتناعی دینے والی عدالتیں، ماتحت عدلیہ میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں لیکن منصف اعظم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ تو ملک میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے لانگ مارچ کرنے کی تیاری میں ہیں ۔ اُنھیں تو بس اپنے نام سے جاری دیم فنڈ اکاونٹ میں رقم چاہیے چاہے جہاں سے مرضی آئے۔ایسے عالم میں کہ یورپین یونین کی عدالت کے مسیحی ججوں نے فیصلہ دیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کی آڑ میں توہین رسالت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے ججوں کی جانب سے فنی بنیادوں پر اہانتِ رسول کی مجرمہ کی بریت کے فیصلے نے پاکستان کے مسلمانوں کے دل دُکھی کر دئیے۔ اور اُن کے لیے اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہورہا ہے۔یہ فیصلہ ملک کی وحدت کو کمزور کرنے کا باعث بنے گا۔ ملک کے معاشی حالات پہلے ہی بہت خراب تھے۔اِس المیے پر پرُامن احتجاج آئینی حق ہے۔سپریم کورٹکے فیصلے بعد پورے ملکمیں جو جلسے جلوس ہورہے ہیں اِس حوالے سے اتنا عرض ہی کرنا ہے کہ مسلمانوں کی اپنے نبی پاکﷺ سے محبت کا انداز ہے۔ ملکی املاک کو ہر گز نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ ایک اہم بات کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے نہایت ناعاقبت اندیشی کو ثبوت د یتے ہوئے اِس معاملے کو بگاڑنے کی کو شش کی ہے۔ جس انداز میں پنی ہی عوام کو جناب خان صاحب نے دھمکیاں دی ہیں اِس سے واضع ہوتا ہے کہ خان صاحب کو غلط مشیروں نے گھیرئے میں لیا ہوا ہے۔ بطور وزیر اعظم پاکستان اِس حساس معاملے پر خان صاحب کا امن و امان قائم رکھنے کے لیے جارحانہ انداز ثابت کرتا ہے کہ خان صاحب اِس معاملے کی حساسیت سے عاری ہیں۔عمران خاں صاحب تو اقتدار کی خاطر دھرنے د یتے رہے اور شہر بند کرتے رہے اُن کی بہت ساری وڈیوز وائرل ہیں سوشل میڈیا پہ۔ وہ خان صاحب نبی پاک ﷺ کی ناموس کی خاظر جذبہ ایمانی سے سرشارافراد پر بھونڈئے الزام لگا رہے ہیں بہت افسوس ہوا ہے خان صاحب کے اِس انداز پر۔ 
عدالتِ عظمی کی اِس آبزرویشن پر حیرت ہے کہ ایف آئی آر پانچ دن بعد درج ہوئی ۔ حالانکہ فیصلے میں آگے چل کر لکھا ہے کہ اِس بات کی کمی دور ہوگئی ہے۔ کیونکہ ایس پی نے اِس کی تفتیش کو فائنل کیا۔ضابطہ فوجداری کی دفعہ -156 اے کے تحت 295-C کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ایس پی کی سطع کے پولیس افسر کی تحقیقات ضروری ہیں۔ ہمارئے اِس ماحول میں ایک عام شخص کی وہ بھی کسی گاؤں کا رہنے والا ہو کے لیے ایس ایچ او تک رسائی مشکل ہے اِس پر یہ کہ ایس پی تک رسائی مل جائے۔ اِس قانونی شق کا جنرل مشرف نے سیکشن 295-C کے حوالے سے امتیازی طور پر اضافہ ہی اِس لیے کیا تھا۔ تاکہ ایف آئی آر کا اندراج ممکن ہی نہ رہے اور پھر عدالت عظمیٰ نے درخواست کے اندراج کے لیے گیارہ روز کی تاخیر کو نظر انداز کر دیا اور کہا کہ چونکہ یہ سزائے موت کو ٹھڑی میں تھی اِس لیے اِس کے حق میں تاخیر سے صرف نظر کر دیا جائے۔ یعنی ضابطے کو معطل کردیا جائے تو کیا فنی بنیا دوں پر ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیا ایسی نرمی قتل کے ہر جرم کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اگر ہیں تو اِس کے لیے عدالتی فیصلہ جات کا ریفرنس دیا جانا ضروری تھا۔خلاف معمول ضابطے کو معطل کرکے رعائیت دینے کی وجہ ہی عوامی خدشات کو تقویت ملی۔ اِس کے پیچھے کہیں نہ کہیں امریہ برطانیہ کا دباؤ ضرور ہے 
اگر آسیہ بی بی بے گناہ تھی تو اسے آج تک قید میں کیوں رکھا گیا؟ سپریم کورٹ ذمہ داروں کا تعین کرے اور انہیں بھی سزا دے. اور اگر وہ گناہگار تھی تو اسے رہا کیوں کیا گیا؟ ریاست پاکستان ذمہ داروں کا تعین کرے. آسیہ بی بی کو رہا کرواتے ہوئے ایک گورنر قتل اور اس گورنر کے قتل کے جرم میں ایلیٹ فورس کا ایک جوان پھانسی چڑھ چکا ہے. یہ کیسا نظام انصاف ہے آسیہ بی بی کی رہائی کا پرابلم نہیں ہے اگر سپریم کورٹ نے تمام ثبوتوں کی روشنی میں اسے بے گناہ پایا ہے تو اسے رہا ہی ہونا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ لوئر کورٹ اور ہائی کورٹ نے کن ثبوتوں کی روشنی میں اسے سزائے موت دی تھی؟ سب سامنے لایا جائے. عوام کے سامنے سب کھول کر رکھا جائے. دونوں طرف کے وکلا اور گواہوں کی جرح کے ڈاکومنٹس کو پبلک کیا جائے. تاکہ سچ اور جھوٹ واضح ہو سکے. اگر آسیہ بی بی کو ٹھیک رہا کیا گیا ہے تو لوئر کورٹ اور ہائی کورٹ کے ان ججز کو جنہوں نے اسے سزائے موت دی تھی لٹکانا چاہیے اور اگر آسیہ بی بی کو غلط رہا کیا گیا ہے تو موجودہ بنچ کو لٹکانا چاہیے. ججز کیس فائل کو پبلک کریں تاکہ عوام خود دیکھ سکے کہ اصل معاملہ کیا تھا۔
اس فیصلے کا نچوڑ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے مطابق آسیہ بی بی کو اس لیے رہا کیا گیا کہ استغاثہ نے سچ میں جھوٹ کی اتنی آمیزش کی ہے کہ سچ سچ نہیں رہا اور جھوٹ جھوٹ نہیں رہا. لہٰذا کیس کمزور ہو گیا ہے. سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ اول تو آسیہ بی بی نے توہین رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہی نہیں اور اگر یہ مان لیا جائے کہ کی ہے تو پھر ایف آئی آر درج کروانے سے لے کر گواہوں کے بیانات میں تضاد تک اتنا جھوٹ شامل کیا گیا ہے کہ آسیہ کو شک کی بنیاد پر بری کیا جاتا ہے. سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ توہین رسالت کی ایف آئی آر کوئی شخص درج نہیں کروا سکتا بلکہ حکومت پاکستان درج کروا سکتی ہے. اسی طرح سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ آسیہ بی بی کا اقبال جرم عدالت کے سامنے کبھی نہیں ہوا بلکہ یہ 1000 سے زیادہ مسلمانوں کے مجمع میں بروز جمعہ کروایا گیا جہاں وہ اکیلی تھی اور اسے سب مارنے کے درپے تھے اور سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اصل میں جھگڑا یہ تھا کہ آسیہ نے اپنی مسلمان ساتھیوں جو کہ فالسے کے کھیت میں ادریس کی فصل سے فالسے توڑ رہیں تھیں کے گلاس میں پانی پیا تھا اور بعد میں اسی گلاس میں انہیں پانی پلانے کی کوشش کی تھی جس پر جھگڑا ہوا اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔سپریم کورٹ کے اِس فیصلے کے بعد میری جناب چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جو آٹھ سو زائد کیس اِسی 295 -C کے زیر التواء ہیں اُنکا فیصلہ بھی کریں۔عوام الناس سے گزارش ہے کہ احتجاج ضرور کریں لیکن پُر اُمن۔ کیونکہ ملکی املاک کو نقصان پہنچے گا تو ہمارا دُشمن خوش ہوگا۔ 

198 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y7mp2s34
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *