سوشل میڈیا کی یلغار اور ہماریِ زندگی (حصہ ۔۔دوئم )

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: محمد جواد خان
قلم نگار، فلم ساز اور دیگر پیشہ ہائے زندگی کے لوگ بھی سوشل میڈیا کا استعمال بڑی تیزی کے ساتھ کر تے ہوئے اپنی مقبولیت میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا بہت آسان اور سستا ذریعہ ہے جس سے آپ کسی کے ساتھ بھی باآسانی معلومات کی ترسیل اور روابط قائم کر سکتے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر آج ہر قسم کے گروپ بن چکے ہیں مثال کے طور پر باغبانی ، شاعری ، کھانا پکانا ، خرید و فروخت العرض کہ آپ جس طرح کے گروپ میں شامل ہو نا چاہتے ہیں ،جس طرح کی معلومات سے آگاہی اور لوگوں سے آپ معلومات کے حامل اور خواہش مند ہیں اسی طرح کے لوگ آپ کو مل جائیں گئے۔ سوشل میڈیا سے کسی بھی قسم کے سوال کا جواب آپ کو باآسانی مل جائے گا ۔ ہر قسم کے ایکسپرٹ افراد آپ کو مل سکتیں ہیں۔ اور اکثر اساتذہ سوشل میڈیا پر فری تعلیم دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کاروبار کو فروغ دینے کا بہت اچھا ذریعہ بنتا جا رہا ہے ۔
سوشل میڈیا کے نقصانات: سب سے پہلی بات ادھر یہ بیا ن کرتا جاؤں کہ ہم انسان کی فطرت ہے کہ ہم ہر چیز کے اچھے مقاصد اور خوائص کو چھوڑ کر اس چیز کے غلط استعمال کی طرف جلدی راغب ہو جاتے ہیں۔ یہ ہی حال ہم نے سوشل میڈیا کے ساتھ بھی کیا اور اس قدر غلط استعمال کیا گیا کہ اب صرف سوشل میڈیا کی برائی ہی برائی نظر آتی ہے باقی کچھ نہیں ۔سوشل میڈیا کی سب سے پہلی بُری چیز تو میں اسی بات کو سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا نے روابط کے فاصلے کم کر دیئے مگر دلوں سے پیار و محبت کے جذبات کو ختم کر دیا۔ احساسات اور جذبات کی سوچ و فکر کو معاشرے میں سے ختم کر دیا جو کہ ہمارے اسلامی اور اخلاقی معاشرے کے لیے بہت سنگین مسلۂ ہے ۔ سوشل میڈیا کا لوگوں کو نشہ ہو گیا ہے اور اس قدر خطرناک حد تک نشہ ہو گیا ہے کہ اکثر نوجوان ہر وقت سوشل میڈیا سے جڑے رہنے کی وجہ سے معاشرے سے بالکل لا تعلق ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سب سے بری بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر وہ خبریں زیادہ شائع ہوجاتی ہیں جو کے بغیر تصدیق کے ہوتی ہیں جب کے ان خبروں کے حقائق سامنے آتے ہیں تو تب اُس وقت تک بے تحقیق خبریں پھیل چکی ہوتی ہیں۔ مذاق سے ذراہٹ کر ایک بات کر تا جاؤ ں کہ ہمارا نوجوان جس کو اقبال رحمتہ اللہ نے شاہین بنا کر پیش کیا آج و شاہین اسی سوشل میڈیا پر شیلا کی جوانی اور منی بدنام ہوئی پر بحث کر رہا ہوتا ہے ۔ وہ نوجوان جس کو انقلابی سوچ کا پیکر بنایا گیا تھا وہی انسان آج سوشل میڈیا پر فضول لغویات میں محو نظر آتا ہے۔ وہ نوجوان جو کل کو بزرگوں کے سامنے اونچی آواز کرنا تو دور کی بات ان کی بات پر بحث کرنا گوارا نہیں سمجھتا تھا آج وہ نوجوان سوشل میڈیا پر ہر اس موضوع پر گفتگو کرتا نظر آتا ہے جس کا کوئی نہ تو جواز بنتا ہے اور نہ ہی کوئی سود و فائدہ ۔۔۔ جب کہ معاشرے کی ترقی کا انحصار تعلیم و تربیت اور معاشرے کے افراد کے رحجانات پر منحصر ہوتا ہے مگر ہم نے ۔۔۔تعلیم و تربیت کو چھوڑ کر سوشل میڈیا پر اپنے قیمتی اوقات کو اس طرح برباد کر رہے ہیں کہ جس طرح گویا کہ ہم شاہِ عالم بن گئے ہیں ۔۔۔ جب کہ ہم معاشرے کے ساتھ ساتھ خود کو ایک ان دیکھی تباہی کی راہ پر کامزن کیے ہوئے ہیں۔ آج ہم نے ہر کام ہر فنگشن اور ہر رسم و رواج کو سوشل میڈیا کی نظر پیش کر کے رکھ دیا ہے کہ بس سوشل میڈیا پر ڈال دیا ہے اب ہو جائے گا۔۔ اور ایسے ہی ہو جائے کے چکر میں ہم سست اور کاہل بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے ہی ہو جائے کے چکر میں آئے روز ہم اپنے حقوق کی حق تلفی کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے ہی ہو جائے کے چکر میں ہم تمیز اور اخلاقیات کے دائرے میں سے نکلتے ہو ئے نظر آرہے ہیں ۔ایک سادہ سی مثال دیکھ لیں آپ کا عوامی نمائندہ آپ کو سوشل میڈیا پر بھرپور طریقے سے کام کرتا دیکھائی دے گا مگر عوامی مسائل کا اور حقیقت سے وہ نا آشنا اور لا تعلق ہو گا اور اس قدر بے پرواہ ہو گا کہ اس کو عوامی تکلالیف کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ عوامی مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہو گا ۔۔۔ ہو گا تو صرف سوشل میڈیا پر اپنا Status لگانے میں۔۔۔ اس لیے سوشل میڈیا نے عوام کے درمیان سے ان کے عوامی لیڈروں کو نکال کر سوشل میڈیا کی نظر تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ۔ سوشل میڈیا کی تقریباَ ہر ایک اپلیکشن پر عام آدمی سے لے کر اعلیٰ حکام تک کے جعلی اکاؤنٹس بنا کر لوگوں کو با آسانی گمراہ کیا جارہا ہے جس سے معلومات اور آگاہی میں غلط رحجانات کی بھرمار زیادہ نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا تو گویا بے حیائی کا ایک کھلا دروازہ ہے جس میں سے جس طرح جس کی مرضی چاہے داخل ہو جائے، آئے روز نت نئے آنے والی اپلیکشنزنت نئی فحاشی اور بے حیائی کے فروغ کو اجاگر کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ انسان باہر سے تھکا ہارا آتا تو والدین، بہن بھائیوں اور اولاد کے ساتھ وقت گزار کر اپنی زندگی کے بوجھ اور پریشانیوں سے اپنے آپ کو ہلکا کر لیتا تھامگر سوشل میڈیا نے آکر وہ وقت تو برباد کیا ہی مگر اس کے ساتھ وہ غم اور اندیشے بوجھ بن کر انسان کو بوجھل اور نفسیاتی بنا رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا اس وقت نوجوان نسل کومذہبی ، معاشی اخلاقی ا ور ذہنی امراض کا شکار بنا تا جا رہا ہے جسکی بدولت نوجوان نسل غلط کاریوں کی طرف راغب ہوتی جا رہی ہے ۔ زمانہ جس برق رفتاری سے آگے بڑھتا جا رہا ہے ہمارا نوجوان اسی تناسب سے پیچھے کی طرف جاتا دیکھائی دے رہا ہے ، جذبات اور احساسات کے لحاظ سے نوجوان اس قدر پیچھے کی طرف جا رہا ہے ، اخلاقیات اور احساسات اور اپنائیت معاشرے میں سے ختم ہوتی جارہی ہے ، سوشل میڈیا پر انسان جس قدر اخلاق اور خلوص کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے (جاری ہے ۔۔۔۔۔حصہ سوئم)

سوشل میڈیا کی یلغار اور ہماریِ زندگی (حصہ ۔۔سوئم)
اصول و اسلوبِ زندگی ، محمد جواد خان (J.D Brothers)
aoaezindgi@gmail.com
حقیقت میں بالکل اس کے برعکس ہوتا ہے ، نوجوان اس قدر بد اخلاق ہوتا جا رہا ہے کہ اخلاقیات کا درس اس کے قریب تر نظر نہیں آتا ۔ سوشل میڈیا اس قدر جدیدیت کا حامل ہے کہ انسان جس آسانی سے اچھے مقاصد و پیغامات اپنے دیگر ساتھیوں تک باآسانی پہنچا سکتا ہے اسی طرح شر پسند عناصر بھی سوشل میڈیا کو اپنے مقاصد کے لیے اس کو بڑی آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک زمانہ ہو ا کرتا تھا کہ خاندان اور دوست احباب کسی بھی تقریب میں اکھٹے بیٹھا کرتے تھے، وقت آپس میں مل بیٹھ کر گزارا کرتے تھے مگر اب وہ سلسلہ اس قدر نا پید ہوچکا ہے کہ اب وہ میل ملاپ بھی صرف اور صرف سوشل میڈیا کی قید میں بند ہو گیا ہے ، وہ سوشل میڈیا جو معلومات کا اس قدر آسان ذریعہ بنا تھا کہ دنیا کو گلوبل ویلج کا نام دے دیا گیا،مگر گلوبل ویلج تو بنا مگر انسان اپنے پڑوسی کے مسائل اور حالات سے ناواقف تو ہوا ہی مگر ساتھ میں دوسری تہذیبوں اور مذاہب کی رسومات کو اپنے اندر پیوست کرنا بھی شروع اس انداز میں کر دیا کہ گویا کہ یہ رسوم بھی ہمارے ہی معاشرے کا اہم جزو ہو ں جس طرح ۔ ایک زمانہ تھا کہ بچہ رات کو ماں کی لوری سنتا سنتا سو یا کرتا تھا یا پھر ماں اپنے بچوں کو لیٹنے سے پہلے کلمے اور مسنون دعائیں یاد کروایا کرتی تھیں، مگر اب دو سے ڈھائی سال کے بچے کو گیم کے لیے موبائل میں ہاتھ پکڑا دیا جاتا ہے کہ یہ لو بیٹا گیم کھیل لو اس کو بھی چھوڑو کہ پہلے مائیں قرآنی آیات پڑھتے ہوئے بچوں کو دودھ پلایا کرتی تھیں مگر آج یا تو ماں دودھ پلاتے ہوئے گانا سن رہی ہو گی یا پھر فیس بک پر لگی ہو گی ، اور ہم ہیں کہ اس امید پر کہ جی ہماری آنے والی نسلیں بڑی غیرت مند اور جرات مندانہ پید ا ہونے والی ہیں نہیں ہم غلطی کی طرف چل نہیں بھاگ رہے ہیں کہ ایک طرف تو ہماری نوجوان مائیں یہ کام کرتی ہیں دوسری طرف باپ آتا ہے گھر میں تو وہ اپنا موبائل آن کر لیتا ہے اس کو کچھ خبر نہیں کہ بیٹا / بیٹی اپنے موبائل پر کیا کر رہے ہیں ، کوئی سیکھنے سیکھانے والا سلسلہ نہیں ، کوئی درس و تدریس نہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ مائیں آٹا گوندھنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ کر آٹا نکالا کرتی تھیں کہ برکت پیدا ہو مگر آج کل منی بدنام ہوئی کا گانا زبان پر ہوتا ہے اور روٹیاں پک رہی ہوتی ہیں۔ پہلے تو اس طرح ہوتا تھا کہ احادیث و آیا ت مبارکہ تقریبا ہر بندے کو یا د ہو ا کرتی تھیں جس کی بدولت کسی بھی جگہ کوئی غلطی کرتا تو اس کی اصلاح کر کے اس کو روکا جاتا مگر آج سوشل میڈیا کی دنیا میں دین کی منا سبت سے بہت سی غلط خبریں اور باتیں بغیر کسی تصدیق کے اس طرح شیئر کی جاتی ہیں کہ جس طرح وہی سچ ہو جبکہ حققیت ان کے بالکل برعکس ہوتی ہے، بات یہاں تک ہی نہیں اگر کوئی اصلاح کے لیے اتنی بات کر دے کہ یہ بات حوالہ جات کے حساب سے ٹھیک نہیں ہے تو وقتی فلاسفر اور سکالرز اس اصلاح کرنے والے شخص سے لڑائی مول کر عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں۔ عورت اور مرد کی دوستی کو اسلام کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرتا بلکہ اسلام نے ماں ، بیوی ، بیٹی ، بہن، خالہ، پھوپھی وغیرہ کے رشتے دے کر ایک طرف تو عورت کو عزت کے مقامات سے نوازا مگر دوسری ہی جانب عورت اور مرد کی دوستی کے رشتے کا کوئی پہلو نہیں بیان کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد کی دوستی کی کوئی راہ نہیں مگر سوشل میڈیا پر عورت اور مرد کی دوستیوں کے چرچے پھر بولنا کہ جناب ہمارے درمیان اور تو کچھ نہیں ہم آپس میں صرف اور صرف دوست ہیں حالانکہ اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوتی دوستی کے چھوٹے سے نام سے بڑی برائی کی پیدائش ہوتی ہے ، تھوڑا تھوڑا کر کے بہت ہو تا جاتا ہے ،اور یہ کام سوشل میڈیا پر بہت زیادہ اور مقبول ہو چکا ہے ۔ 
کوئی بھی چیز بذاتِ خود غلط نہیں ہوتی غلط ہوتا ہے تو اس کا طریقہِ کار ایک مثال ہے کہ انسان نے بم اس لیے ایجاد کیا گیا تھا کہ پہاڑوں کی کھدائی اور سرنگوں کی کھدائی میں آسانی پیدا کی جاسکے مگر اب جس انداز میں بم کو لا کر رکھ دیا گیا ہے اور جس طرح اس کو استعمال کیا جاتا ہے اس میں بنانے والا کا تو قصور نہیں۔۔۔قصور ہے تو استعمال کے طریقہ کا ر کہ کوئی کس چیز کو کس طرح استعمال کرتا ہے ۔ سوشل میڈیا کے نقصانا ت سے بچنے کا اب یہ طریقہ تو ہے نہیں کہ دنیا سے لاتعلق ہو جائیں اور سوشل میڈیا کو بالکل چھوڑ دیں، حقیقت میں اگر آپ اس طرح اس دور میں کریں گئے تو آپ دنیا سے لاتعلق ہو کر الگ تھلک ہو کر اپنے آپ تک محدود اس قدر ہو جائیں گئے کہ آپ خود اپنی زندگی سے عاجز آ جائیں گئے ہاں مگر یہ بات ہے کہ آپ سوشل میڈیا کے استعمال کو لگام دے کر رکھیں ایک حد اور ایک دائرے کے اندر اندر رکھیں، دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کرتا جاؤں کہ اگر گھوڑے کو لگام میں رکھا جائے تو وہ آسانی سے قابو میں رہے گا ، مگرخدا نخواستہ گھوڑے کی لگام نہ ہو اور آپ اس پر سواری کرنے بیٹھ چکے ہوں تو پھر اللہ ہی آپ کا حافظ ہے کہ گھوڑا آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے ، اسی طرح ہر چیز کی لگام ہوتی ہے ، سوشل میڈیا کو آپ جس سمت لے کر جاؤ گئے تو وہ اسی طرف آپ کے ساتھ چلے گئی مگر بات اتنی ہے کہ آپ سوشل میڈیا کو کس سمت لے کر جاؤ گئے ، مگر ہمارا عالم تو یہ ہوتا ہے کہ ہم جب سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے بیٹھنے لگتے ہیں تو ہم کو اتنا تک معلوم نہیں ہوتا ہے ہم نے سوشل میڈیا پر کرنا کیا ہے۔ کرنا ہوتا کیا ہے ۔۔۔لڑکیوں کو میسج کرنا ، فضول گروپس میں فضول پوسٹ پر تبادلہ خیال کرنا ۔ اگر ہم سوشل میڈیا کو حد کے اندر استعمال کریں تو وہ بہتر ہے یہ نہیں کہ ساری ساری رات بیٹھا جائے، ایک ٹائم ٹیبل ہو کہ دن میں سوشل میڈیا کو کتنے ٹائم استعمال کرنا ہے ، اگر آپ حدود سے باہر نکلو کے تو خاندانی، معاشی اور معاشرتی ہر لحاظ سے تباہ ہو کر رہ جائیں گئے۔ 
سوشل میڈیا کو استعمال کرنے سے پہلے آپ اپنا مقصد جان لیں کہ آپ نے سوشل میڈیا پر اس ٹائم بیٹھ کر کیا کام کرنا ہے اور دوسری اہم بات یہ کہ آ پ سوشل میڈیا پر اچھی باتیں اور اچھی پوسٹیں شیئر کریں گئے تو آپ کو سکون بھی ملے گا اور اجر بھی ملے گا۔برا کچھ بھی نہیں ہوتا بری ہوتی ہے انسان کی اپنی سوچ ، سوشل میڈیا نہیں تھا تو کیا انسان روابط میں نہیں تھے مگر اب اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ۔۔۔جی سوشل میڈیا آگیا ہے تو آپس کے معاملات اور تعلقات کو ختم کر دیئے جائیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال بھی کریں مگر مخصوص اوقات میں کریں ، اپنی فیملی کو وقت دیں کیونکہ آپ کے بچے کل کو آپ کا سرمایہ ہے ان کی اچھی تربیت کریں ایسی کے جس طرح آپ کے والدین نے آپ کی تربیت کی تھی ، والدین کے لیے خصوصی وقت نکالا کریں ان کے پاس گھڑی دو بیٹھ کر ان کی باتیں سنا کریں ، کیونکہ والدین زندگی کاایسا قیمتی اثاثہ ہیں کہ ان کی قدر انسان کو اسی وقت آتی ہے جب وہ مٹی کے نیچھے جا چکے ہوتے ہیں ، ان کی کی خدمت کریں نماز کے وقت نماز کا اہتمام کریں کیونکہ نماز کی چھوٹ نہیں ہے ، پڑوسی کے حقوق کا خیال کریں کیونکہ وہ آپ کے احسانات کا مصارف ہے ، ، دوست احباب اور برادری سے میل جول رکھیں کہ آپ ان سے ہمہ تن رابطے میں رہیں ، اپنی تعلیم کے لیے الگ سے وقت نکالیں اور سوشل میڈیا کو اپنے وقت میں استعمال کریں جب ضرورت ہو فارغ اوقات میں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ کل کو اس بات کا بھی حساب دینا ہے کہ وقت کہاں گزرا تھا۔ 

156 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/yyeu3zno
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *