سحری کھانے کی فضیلت اور اُس کے آداب

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مفتی محمد وقاص رفیعؔ 
’’سحری‘‘ لغت میں اُس کھانے کو کہا جاتا ہے جو صبح کے قریب کھایا جائے ، جیسا کہ قاموس میں لکھا ہے ۔ اس کا وقت بعض علماء کے بقول آدھی رات سے شروع ہوجاتا ہے (مرقاۃ المصابیح شرح مشکوٰۃ المصابیح) جب کہ بعض دوسرے علماء علامہ زمخشری وغیرہ حضرات نے اخیر رات کے چھٹے حصے کو اس کا وقت بتلایا ہے ۔ یعنی تمام رات کو چھ (۶) حصوں میں تقسیم کرکے اخیر کا چھٹا حصہ مراد لیاہے ۔ رات کی ابتداء سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی ہوجاتی ہے اور صبح صادق تک رہتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر غروبِ آفتاب سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک بارہ (۱۲) گھنٹے بنتے ہوں تو اخیر کے دو گھنٹے سحر کا وقت کہلائے گا ۔ اور ان دو گھنٹوں میں بھی تاخیر سے ’’سحری‘‘ کرنا اولیٰ و افضل ہے ، ہاں! اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ روزہ کے وقت کے ختم ہونے یا نہ ہونے میں ہی شک پڑجائے ۔
’’سحری‘‘ کھانے کے بہت ساری احادیث میں فضائل وارد ہوئے ہیں ۔ حتیٰ کہ علامہ بدر الدین عینیؒ نے تقریباً سترہ (۱۷) صحابہؓ سے اس کی فضیلت کی احادیث نقل فرمائی ہیں اور اس کے مستحب ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری)
چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے ٗ نبی اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’ہمارے اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے روزہ میں ’’سحری ‘‘ کھانے کا فرق ہے کہ (ہم لوگ ’’سحری‘‘ کھاکر روزہ رکھتے ہیں اور وہ ’’سحری‘‘ کھائے بغیر ہی روزہ رکھ لیتے ہیں) ۔
ایک دوسری حدیث میں آتا ہے ٗ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے ’’سحری‘‘ کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں۔‘‘ ( اس حدیث کو امام طبرانیؒ نے اپنی کتاب معجم اوسط میں اور ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح ابن حبان میں روایت کیا ہے جیساکہ ترغیب میں ہے۔)
ایک اور حدیث میں آنحضرتؐ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ : ’’تین چیزوں میں برکت ہے : (۱) جماعت میں (۲) ثرید (عربوں کا ایک خاص قسم کا کھانا) میں (۳)اور ’’سحری‘‘ کھانے میں ۔ اس حدیث میں جماعت سے عام جماعت مراد ہے ، نماز کی جماعت اور ہر وہ کام جس کو مسلمانوں کی جماعت مل کر کرے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اُس کے ساتھ فرمائی گئی ہے۔ اور ’’ثرید‘‘ گوشت میں پکی ہوئی روٹی کہلاتی ہے جو نہایت لذیذ کھانا ہوتا ہے ۔ تیسری چیز ’’ سحری‘‘ ہے۔ (فضائل رمضان بتغیر)
ایک اور حدیث میں آتا ہے ٗ رسولِ پاک ؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’سحری‘‘ کھا کر روزہ پر قوت حاصل (کیا ) کرو! اور دوبہر کو سو کر (قیلولہ کرکے) اخیر شب میں (تہجد وغیرہ کے لئے ) اٹھنے پر مدد چاہا کرو!۔
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ایک مرتبہ ’’سحری‘‘ کے وقت مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’انسؓ! روزہ رکھنا چاہتا ہوں ، کچھ کھانے پینے کے لئے ہے تو لے آؤ! حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ : ’’میں کھجور اور ایک پانی کا برتن لے کر حاضر خدمت ہوا۔‘‘ (سنن نسائی)
نبی کریم ؐ جب کسی صحابی کو اپنے ساتھ ’’ سحری ‘‘ کھانے کے لئے بلاتے تو ارشاد فرماتے کہ : ’’آؤ! برکت کا کھانا کھا لو! ۔ حضرت عبد اللہ بن حارثؓ ایک صحابیؓ سے نقل کرتے ہیں کہ میں حضور اقدسؐ کی خدمت میں ایسے وقت میں حاضر ہوا کہ آپؐ ’’سحری‘‘ نوش فرمارہے تھے ۔ آپؐ نے فرمایا کہ : ’’یہ ایک برکت کی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو عطاء فرمائی ہے ، اس لئے اس کو مت چھوڑنا ! ۔ بلکہ ایک اور جگہ تو یہاں تک ارشاد ہے کہ اور کچھ نہ ہو تو ایک چھوہارہ ہی کھالیاکرو ! یاایک گھونٹ پانی ہی پی لیا کرو ! ۔
چنانچہ مسند احمد میں حضرت ابو سعیدؓ سے مروی ہے کہ ’’ سحری‘‘ ساری کی ساری برکت کی چیز ہے لہٰذا اسے (کسی بھی صورت میں) نہ چھوڑنا چاہیے اگرچہ ایک گھونٹ پانی پی کر ہی کیوں نہ ہو ۔ (مسند احمد) لیکن علامہ ابن نجیم حنفیؒ نے لکھا ہے کہ : ’’محدثین کے کلام میں ا یسی کوئی تصریح میری نظر سے نہیں گزری کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ محض پانی کا ایک گھونٹ پی لینے سے ’’ سحری‘‘ کی سنت کا ثواب حاصل ہوجاتا ہو ، البتہ ظاہر حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔‘‘ ( بحر الرائق شرح کنز الدقائق )
ایک حدیث میں آتا ہے ٗ حضورِ اقدس ؐکا ارشاد ہے کہ : تین چیزیں رسولوں کے اخلاق میں سے ہیں : ’’(۱) افطاری میں جلدی کرنا (۲) سحری میں تاخیر کرنا (۳) اور نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا۔‘‘ مراقی الفلاح علیٰ حاشیۃ الطحطاوی شرح نور الایضاح)
شہزادۂ عسقلان حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے لکھا ہے کہ : ’’سحری‘‘ کھانے کی برکات مختلف وجوہ سے ہیں : (۱) اتباعِ سنت (۲) اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی مخالفت وغیرہ وغیرہ۔( فتح الباری شرح صحیح البخاری )
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس شخص کی آنکھ اتنی دیر سے کھلی کہ فجر کی اذان ہورہی تھی یا اس کے بھی کچھ دیر بعد کھلی تو اُس کے لئے جلدی جلدی ’’سحری‘‘ کھالینا جائز ہے ٗ یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے ، اس لئے کہ ’’سحری‘‘ کا وقت صبح صادق سے پہلے ہے ، صبح صادق کے بعد ’’سحری‘‘ کھانا جائز نہیں خواہ اذان ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ (معارفُ القرآن)
بعض لوگ آدھی رات سے ’’سحری‘‘ کھا کر بیٹھ جاتے ہیں ، اتنی جلدی ’’سحری‘‘ کھانا شریعت کے منشاء اور ’’سحری‘‘ کے مقاصد کے خلاف ہے ، اس سے بچنا چاہیے ، ہاں! کوئی معذوری اور مجبوری ہو تو علیحدہ بات ہے۔
بعض لوگ جو گھڑی گھنٹہ کے پابند ہوتے ہیں وہ ’’سحری‘‘ کھانے میں اتنی تاخیر کردیتے ہیں کہ بعض مرتبہ صبح صادق کے بعد کھانا کھانے کا شبہ ہونے لگتا ہے ۔یہ بے احتیاطی کی بات ہے ، مطلوبِ شرعی یہ ہے کہ ’’ سحری‘‘ صبح صادق سے بہت پہلے نہ کھائی جائے اور نہ ہی اتنی تاخیر سے کھائی جائے کہ صبح صادق ہونے کا گمان ہونے لگے ، بلکہ جب صبح صادق کا وقت قریب ہو تو اُس وقت ’’ سحری‘‘ کھانی چاہیے اور صبح صادق سے پہلے ہی اطمینان کے ساتھ فارغ ہوجانا چاہیے۔(شرح البدایہ و ردّ المحتار)
بعض لوگ ’’سحری‘‘ کھانے کے لئے اُٹھتے تو ہیں مگر فجر کی نماز پڑھے بغیر ’’سحری‘‘ کھا کر سوجاتے ہیں ، اس طرح رمضان میں بھی اُن کی فجر کی نماز قضاء ہوجاتی ہے ۔ یاد رکھیئے! اس طرح سحری کی سنت ادا کرکے فجر کے فرضوں کو قضاء کرنا جائز نہیں ہے۔(ماہِ رمضان کے فضائل و احکام)

237 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y738h3c9
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *