سانحہ ساہیوال کے بعد؟

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: آصف خورشید رانا
ہر نیا سانحہ آنے والے سانحہ کو جنم دیتا ہے اگر اس سانحہ سے سبق نہ سیکھا جائے ۔ قومیں سانحات سے گزر کر سبق سیکھتی ہیں اور ریاستیں سانحات کے مستقبل میں روکنے کے لیے اقدامات کرتی ہیں ۔ ایسی کئی ریاستیں موجود ہیں جہاں ماضی میں بڑے بڑے سانحات ہوئے لیکن اس کے بعد اس جیسے دیگر سانحات کو روکنے کے لیے پالیسی ساز بیٹھے ، قوم کو تیار کیاگیا، فیصلے ہوئے اور ان پر عملدرآمد کرکے سانحات کے آگے بند باندھ دیے گئے۔ جدید تاریخ میں دیکھا جائے تو نائن الیون امریکہ کے لیے ایسا بڑا سانحہ تھا جس نے دنیا کی سپر پاور کے اندرونی سیکورٹی نظام کی قلعی کھول دی ۔ سازشی تھیوری سے ہٹ کر امریکہ نے جہاں اس واقعہ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف ایک بڑی جنگ کا اعلان کر دیا وہاں سیکورٹی ادارے اور پالیسی ساز ادارے سر جوڑ کر بیٹھے کہ اندرونی سیکورٹی کے نظام کو کس طرح محفوظ بنا کر اپنی قوم کی حفاظت کرنی ہے ۔ یورپ کے مختلف ممالک میں ہونے والی دہشت گردی ان کے لیے چیلنج بن گئے تو انہوں نے مشترکہ طور پر اس سے نبٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے دی ۔
سانحہ ساہیوال شاید ہمارے لیے نیا نہیں ہے ۔ ماضی میں بھی ہم ایسے کئی دلخراش سانحات کا درد سہہ چکے ہیں لیکن بحثیت قوم کیا ہم ان سانحات سے کوئی سبق سیکھ سکے ہیں یا یہ ایسے ہی چلتا رہے گا اس کا جواب شاید ہم میں سے کسی کے پاس نہ ہو۔ہماری معمول بن چکا ہے کہ ہر سانحہ کے بعد آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں ، میڈیا میں چند دن شور اٹھتا ہے ، انکوائری کمیٹی بنا دی جاتی ، جوڈیشل کمشن ، جے آئی ٹی سمیت دیگر اقدامات کا اعلان ہو جاتا ہے ، میڈیا پر چند دن پروگرام چلتے ہیں اورحکومتیں ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا دعویٰ کرتی ہیں وزراء بیانات دیتے ہیں اور پھر دن گزرنے کے ساتھ ہی ہم بھول کر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک مصروف رہتے ہیں جب تک کوئی نیا سانحہ نہیں ہو جاتا۔ ہم مجموعی حیثیت میں ہم ایک جذباتی قوم ہیں اور جذبات میں فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہمیں دعوے چاہیے یا کوئی سنجیدہ عملی اقدام چاہیے ۔ برسر اقتدار طبقہ کی ترجیحات میں محض عوامی جذبات کو وقتی طور پر دبانا شامل ہوتا ہے سو معاملات اسی طرح چلتے رہتے ہیں ۔ موجودہ حکومت سے عوام کو بڑی توقعات وابستہ ہیں ۔ ان توقعات کی بڑی وجہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی دیگر مرکزی رہنماؤں کے وہ بیانات ہیں جو انہوں نے ایوان اقتدار میں قدم رکھنے سے پہلے دیے تھے ۔ اس لیے سانحہ ساہیوال کے بعد ایک موہوم سی امید باقی ہے کہ شاید اب ذمہ دار ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ طویل المیعاد اقدامات ضرور کیے جائیں گے جن کی وجہ سے مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا ۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد قوم اس سانحہ سے نبٹنے کے لیے ایک ہوئی تو حکومتوں اور سیکورٹی فورسز نے بھی بھرپور طریقہ سے قوم کی امنگوں کے مطابق آپریشن ضرب عضب اور پھر ردالفساد کا آغاز کیا ۔ پاک فوج اور عوام کی بڑے پیمانے پر قربانیوں کے بعد آج ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہم کسی حد تک جیت چکے ہیں تاہم شاید ابھی مکمل طور پر نہیں جیتی جا سکی تاہم ایک درست سمت کی جانب سفر جاری ہے ۔دہشت گرد وں کے خلاف کام کرنے والے سیکورٹی اداروں میں صوبائی سطح پر ایک اہم ادارہ کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ بنایا گیا۔ بلاشبہ اس ادارے نے کئی مواقع پر کامیاب کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف دہشت گردوں کو گرفتار کیا بلکہ کئی سانحات کو بھی ہونے سے بچایا ۔ تاہم اس کی کارکردگی کے باوجود اس پر سیاسی اثرورسوخ کا الزام عاید ہونے لگا ۔سابق حکمرانوں کی سیاسی مداخلت کے باعث اس ادارے کی کئی کارروائیاں متنازعہ قرار پائیں ۔ ایسے کئی واقعات سامنے آئے جن میں محض شک کی بناء پر کسی کو گرفتار کیا جاتا اور تین ماہ ، چھ ماہ یا ایک سال بعد تحقیقات پر پتا چلتا کہ وہ بے گناہ تھا تاہم اس وقت تک گرفتار فرد پر دہشت گردی کا لیبل ضرور لگ جاتا ۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں انسانی حقوق کے حوالہ سے بہت کم کام ہوا ہے اس کی بڑی وجہ شعور کی کمی یا پھر اس طر ف توجہ نہ ہونا بھی شامل ہے ۔ دہشت گردی کے باعث ملک تو پہلے ہی جنگ کی کیفیت میں تھا جہاں عام طور پر اس طرح کے واقعات کو اہمیت نہیں دی جاتی تاہم میڈیا کی آزادی کے بعد ایسے واقعات کو چھپانا بھی ناممکن ہو جاتا اس لیے وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اب اس سانحہ سے کچھ سبق سیکھ کر آگے بڑھا جائے ۔
دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں جہاں کامیابی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے وہاں ساہیوال سانحہ جیسے واقعات اس جنگ کو پھر سے ناکامی کے دہانے پر پہنچا سکتے ہیں یہی نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے لیے بھی شاید یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے ان دعووں کو عملی جامہ پہنائے جو اس نے اپوزیشن میں رہ کر کیے تھے اور عوام کے ان خوابوں کی تعبیر مہیا کرے جو کپتان انہیں جاگتی آنکھوں دکھا چکے ہیں ۔ یہ بہترین وقت ہے کہ پولیس کے ساتھ ساتھ سی ٹی ڈی دیپارٹمنٹ کے اختیارات کا ازسر نو جائزہ لیا جائے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب سانحہ ساہیوال پر درست سمت کارروائی کی گئی ۔ اس لحاظ سے میر ی دانست کے مطابق اس وقت دو سمتوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔فوری طور پر تو یہ واقعہ ہمارے سامنے ہے اس میں حکومت کو پہلا کام اس ناجائز فعل کی حمایت سے فوری طور پر اپنے آپ کو دستبردار کرنا ہے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ آپریشن سو فیصد درست تھا تو اسی وقت یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ کارروائی میں آپ کی سنجیدگی کس حد تک ہے ۔ یہ آپریشن کسی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ان کیمرہ جو معلومات فراہم کی گئی ہیں انہی کی روشنی میں اس آپریشن کو درست قرار دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔ ذیشان ایک مشتبہ یا سہولت کار تھا اور اگر ہمارے اداروں میں یہ صلاحیت موجود نہیں کہ وہ ایک مشتبہ یا سہولت کار کی نگرانی کر سکے یا کم از کم اس کو زندہ گرفتار کرسکے تو اس ادارے کی تربیت اور صلاحیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔وزراء جس انداز سے اس دلخراش عمل کو درست آپریشن کا نام دیے کر حمایت کر رہے ہیں اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے میں ہم کسی طور پر بھی سنجیدہ نہیں ہیں ۔بدقسمتی سے جس انداز سے وزراء نے بیانات میں جلد بازی دکھائی یا ابھی تک کچھ وزراء یہ روز جاری رکھے ہوئے ہیں وہ مایوس کن ہے ۔دوسری سمت اس ادارے میں اصلاحات کاعمل ہے ۔ پولیس اور بالخصوص سی ٹی ڈی میں فوری اصلاحات کا عمل ناگزیر ہے ۔اس ادارے کو دہشت گردی روکنے کے لیے فنڈز اور اختیارات اب مسئلہ بن چکے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم مسئلہ احتساب کا بھی ہے ۔اختیارات دینے کے ساتھ ایک کارکردگی کو جانچنے والے اور ان کا احتساب کو یقینی بنانے کے نظام کا فقدان ہے جس کے باعث سیاسی اثرورسوخ ، اختیارات سے تجاوز اور محض کارکردگی بڑھانے کے لیے جعلی مقابلوں ، گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ دوسری طرف انٹیلی جنس کے ذرائع میں بھی اصلاحات کی ضرورت موجود ہے ۔ حکومت کو دیکھنا چاہیے کہ ذرائع کیا ہیں اور ان میں کس حد تک جدت آرہی ہے ۔ انٹیلی جنس کی معلومات ہی کسی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتی ہے ۔سانحہ ساہیوال ہو چکا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ذمہ داران کے خلاف محض عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہی بیانات نہ دیے جائیں بلکہ کچھ ایسے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے واقعات نہ ہوسکیں ۔ یاد رکھیں ! گولیوں سے بونے والی فصل بموں کی شکل میں کاٹنی پڑتی ہے ۔ اس امن کے لیے وطن کے سپاہیوں اور ہماری قوم نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔ اب پھر سے ملک دشمن عناصر کو موقع فراہم نہ کریں کہ وہ اس طرح کے واقعات کو بنیاد بنا اپنے مذموم مقاصد پورے کر سکے ۔ 

114 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y5eunnoq
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *