دہشت گردی : کیا مودی-دول ڈاکٹرائن کامیاب ہورہا ہے ؟

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: آصف خورشید رانا
دہشت گردی کے اعدادوشمار واضح طور پربتا رہے کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہو رہے ہیں ۔ پاکستان کے دومعروف تحقیقاتی نجی اداروں کی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر سال 2018میں دہشت گردی کے واقعات میں 45فیصد کمی دیکھی گئی ہے ۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کانفلیکٹ اینڈ سیکورٹی سٹڈیز(PICCS) کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی کے ساتھ ساتھ حملوں کی شدت میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے یعنی جہاں جنگجو حملوں میں کمی آئی ہے وہاں ان حملوں میں جاں بحق ہونے والے اور زخمی افراد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے ۔ سال 2018میں ماہانہ اوسط حملوں کی تعداد 35سے کم ہو کر 19پرپہنچ گئی ہے ۔دوسری جانب پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلہ میں 2018میں دہشت گردی کے حملوں میں 29فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔ 
سال 2018انتخابات کا سال تھا جس میں ملک کے سب سے بڑے انتخابات ہوئے ۔ اتنخابی مہم اور گہما گہمی کے لحاظ سے یہ ملک کی سب سے بڑی سرگرمی تھی جس میں ساٹھ فیصد سے زائد آبادی متحرک ہوتی ہے ۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی جلسوں ، ریلیوں اور کارنر اجلاسوں کی وجہ سے سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کی ضرورت رہتی ہے اور جہاں اس درجہ کی عوامی مہم ہو وہاں دہشت گردوں کے لیے کارروائیوں کے لیے مواقع بھی ذیادہ موجود ہوتے ہیں تاہم اس کے باوجود انتخابات کا مرحلہ چند معمولی واقعات کے علاوہ امن و امان کی بہتر صورتحال میں گزرگیاجو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کئی سالوں سے جاری جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے۔
دہشت گردی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے سکالرز کے مطابق دنیا کو اس وقت دہشت گردی کے چوتھے دور کا سامنا ہے ۔اس دور کا آغاز ایران انقلاب 1979سے کیا جاتا ہے جس کا بنیادی محرک مذہبی تسلط شمارکیا جاتا ہے ۔ اگرچہ اس دور کے دوران دیگر مذاہب کے ماننے والوں نے بھی مختلف دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیا تاہم عالمی سطح پر نہایت منظم انداز سے اسلام کے خلاف مہم کا آغاز کیا گیا ۔ اس مہم میں پاکستان خصوصی طور پر نشانہ رہا ۔ایران انقلاب کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھنے میں آئے ۔ایران انقلاب کے بعد افغانستان میں روسی مداخلت اور پھر نائن الیون جیسے واقعات کی وجہ سے شدت پسندی کے رجحانات کو تیزی سے پنپنے کا موقع ملا ۔بدقسمتی سے عالمی سطح پر ایسے گروہ وجود میں آنے لگے جو مذہب اسلام کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہوگئے ۔یہیں سے ملک دشمنوں کو خلاملا اور انہوں نے اس کا بھرپور فائداٹھایا۔ پاکستان نے دہشت گردی اور شدت پسندی کی اس لہر کو روکنے کی کوشش کی تاہم مذہب کی حساسیت کے پیش نظر ریاست کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔دہشت گرد گروہوں کی طرف سے مذہب کا نام استعمال کرنے کی وجہ سے عوامی سطح پر بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کو حمایت نہ مل سکی ۔2007میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل تیزی آتی گئی اور 20014میں دہشت گردی اس حد تک اضافہ ہو چکا تھا کہ ان دنوں اوسطاً 134حملے ہورہے تھے۔سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد ریاست نے ایک بڑا فیصلہ کیا اور آپریشن ضرب عضب کے نام سے وسیع پیمانے پر دہشت گردی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ۔ سانحہ آرمی پبلک نے قوم کے سامنے بھی ان گروہوں کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا اور پوری قوم یکسو ہو گئی ۔ آپریشن ضرب عضب میں کامیابی کے بعد حتمی کامیابی کے لیے آپریشن ردالفساد کا آغاز ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فورسز اور قوم نے مل کر جو جنگ لڑی اس کا نتیجہ دنیا کے سامنے آنے لگا ۔تاہم کچھ ریاستیں ایسی بھی تھیں جنہیں پاکستان کی کامیابی کسی طور ہضم نہیں ہو رہی تھیں ۔ لہٰذا ایک نئے رجحان کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ۔پاکستان کے ہمسایہ ممالک بھارت نے واضح طور پر افغانستان میں انارکی کی صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور پاکستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے علاقوں میں دہشتگرد قوتوں کی مختلف صورتوں میں حمایت کا سلسلہ شروع کر دیا ۔
بھارت میں مودی کے برسر اقتدار کے بعد ہی وزیر اعظم نریندرا مودی نے ایک نیا ڈاکٹرائن پیش کر دیا جس کے پایہ تکمیل کے لیے سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کو ذمہ داری سونپی گئی ۔ مودی -دول ڈاکٹرائن بنیادی طور پر پاکستان کے بلوچستان میں علیحدگی پسند گروپوں کو منظم کرنا ، انہیں وسائل فراہم کرنا ، عسکری تربیت دینا اور پھر ریاست کے خلاف عسکری کارروائیوں کے لیے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے پر مشتمل تھا ۔ ایک طرف پاکستانی فورسز ردالفساد آپریشن میں کامیابیاں سمیٹ رہی تھیں تو دوسری طرف دہشت گردی کو ایک نیا رخ دینے کی کوشش کی جارہی تھی ۔ بھارتی وزیر اعظم کی بلوچستان کے حوالہ سے تقریر اور اجیت دول کی پاکستان میں علیحدگی پسند گروپوں کو معاونت فراہم کرنے کی تقاریر منظر عام پر آنے کے بعد یہ واضح ہو چکا تھا کہ بھارت اب اس نئے رجحان کو پاکستان میں فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کے مطابق پاکستان میں مذہب کی بجائے وسائل کی نامنصفانہ تقسیم کو بنیاد بنا کر علیحدگی پسند تنظیموں کو تیا ر کیاجائے گا ۔ پاکستانی فورسز اور سیکورٹی اداروں کی کامیابی حکمت عملی کے باعث کلبھوشن یادیو کی گرفتاری عمل میں آئی اور یوں بھارت کا ایک بڑا منصوبہ قبل از وقت سامنے آگیا۔ اگرچہ پاکستان کئی وجوہات کی بنا پر عالمی سطح پر اس مقدمہ کے ذریعے دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہا تاہم بھارت کا ایک بڑا نیٹ ورک ضرور پکڑنے میں کامیاب ہو گیا ۔کلبھوشن نیٹ ورک پکڑے جانے کے باجود اعدادوشمار واضح کر رہے ہیں کہ جہاں مذہبی شدت پسندی پر خاطر خواہ قابو پا لیا گیاہے وہاں بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔PICCSکی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ملک میں سب سے ذیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے اور ملک بھر میں ہونے والے ریاست مخالف حملوں میں 43فیصد حملے بلوچستان میں ہوئے جبکہ PIPSکی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت 23فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعدادوشمار سیکورٹی اداروں کے لمحہ فکریہ ہیں ۔یوں محسوس ہو رہا ہے کہ شاید مودی-دول ڈاکٹرائن کامیاب ہونے جارہا ہے ۔ اگرچہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز بڑی کامیابیاں حاصل کر چکی ہے تاہم دہشت گردی کا یہ جن فی الحال بلوچستان میں بوتل سے باہر نظر آرہا ہے ۔ دہشت گردی کے اس رجحان کو جس کی بنیاد مذہب کی بجائے وسائل کی نامنصفانہ تقسیم پر رکھی گئی ہے اس پر قابو پانے کے لیے کئی سمتوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اندرونی طور پر نوجوانوں کو جذباتی انداز سے ریاست کے خلاف قائل کرنے میں اس وقت آسانی رہتی ہے جب وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مناسب روزگار کے مواقعوں سے محروم ہوں ۔ بلوچستان ملک کا رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اس لیے ترقیاتی کاموں کے لیے توجہ دینا بھی بہت ضروری ہے ۔بھارتی ڈاکٹرائن کو شکست دینے کے لیے علیحدگی پسندوں کے ساتھ سختی کے ساتھ نبٹنے کے علاوہ تعلیم ، صحت اور روزگار کے مناسب مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح انفراسٹرکچر پر توجہ دینے اور کاروباری سہولتوں کی فراہمی بھی نہایت ضروری ہے ۔ عالمی سطح پر بھارتی مداخلت کو بے نقاب کرنے میں شاید کامیابی نہیں ہو سکی ۔ اس حوالہ سے سفارتی پالیسی کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی نوجوانوں کو ریاست مخالف بنانے کے لیے بہت محنت ہو رہی ہے اور یہ پہلو کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔اگرچہ گزشتہ کچھ سالوں سے بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں کی جارہی ہیں تاہم موجودہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتی سطح پر ایک ایمرجنسی بنیادوں پر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جو ان تمام مسائل کا احاطہ کرے جس کا سامنا بلوچی عوام کر کرنا پڑ رہا ہے ۔ اگر ہم بلوچی عوام کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بھارتی ڈاکٹرائن دم توڑ جائے گا ۔ 

165 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y2erj586
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *