حسین خوابوں کی تعبیر 2016کے سنگ!مگر کیسے؟۔۔۔۔ تحریر: سفینہ نعیم

Print Friendly, PDF & Email

عدم مساوات ،کرپشن ،بے روزگار ی، نفسانفسی، میرٹ سے انحراف، مہنگا ئی اورانصاف کے حصول نے ہر سو پریشانی اور بد سکونی کی فضاء قائم کر رکھی ہے۔ ہر انسان مسا ئل کے بھنور میں مبتلا ہو کر ہر دم سکون کی تلاش میں سر گرداں ہے۔ کبھی مہنگے ترین ڈاکٹروں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور تو کبھی حکیموں کی جیبیں گرم کرنے میں مصروف دیکھائی دیتا ہے ۔اور کبھی نام نہاد عاملوں کے چکرمیں پڑ کر اپنا سب کچھ لٹادیتا ہے مگر اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ۔اگرآپ پر مسرت اور سکون سے بھرپور زند گی گزارنا چاہتے ہیں اور خدائے بزرگ و برتر کی عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوناچا ہتے ہیں ۔تو اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہو گا اپنے خیالات، احساسات، جذبات، میں تبدیلی لانا ہو گی۔ نئے سال 2016کو نئے عزم ، ولولے ، جذبے او ر عہد کے ساتھ استقبال کریں کہ ہماری زندگی خوشی سے بھری رہے ، ماضی کی تلخیوں کو یکسر فراموش کر کے مستقبل کے حسین خوابوں کی پر کشش تعبیر کو سمیٹا جائے۔ اپنے اندر ایسی مثبت تبدیلی پیدا کی جائے کہ اپنی ، اپنے اہل و عیال اور دوست احباب کی زندگی کو انسانیت کی خوبصورت و دلکش خوشبو سے معطر کیا جا سکے۔ آؤ یہ تبدیلی ابھی اور اسی وقت لائیں ۔ تو پھرچھوڑدوتفکرات کو،انتشارکو،پژمردگی کو،اداسی کو،نکتہ چینی کو، نمائش پرستی کو،بناوٹ اورتصنع کو، فضول اور لاحاصل خوا ہشات کو،خودغرضی کو۔بھول جاؤ گزر ے ہوئے تلخ تجربات کواور ہر ایسی برائی کوجو تم کو بے دست و پا کر دیتی ہے ۔ہر ایسے واقعہ کوجو تم کو آگے بڑھنے سے روکے اور تمھاری خوشی میں سدراہ بنے۔اور پھر دیکھوکہ تم خود کو کس قدر ہلکااور کس قدر آزاد محسوس کرتے ہو اور گوہر مقصود کا حصول کس قدرآسان اور یقینی ہو جاتا ہے۔غم اس وقت تک غم ہے جب تک اسے محسوس کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر تم کوئی افسوس ناک تجربہ کر چکے ہو تو اس کوبھول جاؤاگر تم پھسل کر خود کو زخمی کر چکے ہو اگر تم کبھی خلق کے مورد الزام رہ چکے ہو اگر تم قبیح تہمت لگائے جا چکے ہو تو ان کو بھول جاؤ۔ان واقعات کی یادمیں تمھارے لیے خوشی کا شائبہ تک نہیں اور ان کا جان سوز تصور اورپر عذاب وہم تم کو مسرت سے محروم کر دے گا۔ان کو فراموش کردو۔اگر تم کبھی نا عاقبت اندیش رہ چکے ہو اگر تمھاری شہرت کو صدمہ پہنچ چکا ہے اور تمھیں خوف ہے کہ تم اس کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے۔تو وہم و تصور کی دہشت ناک پرچھائیوں کو ساتھ لیے مت پھرو۔اس کو قوت حافظہ سے مٹا ڈالو۔دھوڈالو۔بھول جاؤ اورزندگی کے باب کواک نئے صاف ستھرے صفحے سے ازسرنو شرو ع کردو۔اور اس صفحے کو آئندہ صاف رکھنے کی کوشش کرو۔اس بات کا تہیہ کر لو ۔کچھ بھی کرو یا نہ کرو گے۔مگر تصور اور وہم سے آزاد رہو گے۔ماضی کے بھیا نک اور تاریک سا ئے تمہاراتعاقب نہیں کریں گے۔اور تمھاری زندگی سے دور نکل جائیں گے او ر ان کی جگہ صاف و شفاف جگہ لے لے گی۔اس بات کا فیصلہ کر لو کہ انتشار اور پر اگندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھو گے۔خواہ کس قدر ضروری ہی کیوں نہ ہو ۔تم ا س کو دل سے نکال ڈالو اور بھول جاؤ۔اپنے حریفوں یعنی افسوسٗ رنج ٗپشمانی اورغصے کو اس قدر طاقت نہ دو کہ تم کو تمھاری قوت عمل سے محر وم کر دے۔ کیوں کہ وہی تو تمھاری آئندہ زندگی کے لیے اندرو ختہ ہے۔متفکر شہرہ ٗمضحمل طبیعت ٗافسردہ دل ٗمتذ بذب اور تلخ مزاج اس بات کا ثبوت ہے۔کہ تم میں اس قدر صلا حیت نہیں ہے۔کہ تم خود پر ضبط اور حکو مت کر سکو ۔یہ تمھاری بزدلی اور کمزوری کی نشانیاں ہیں۔یہ اس بات کاا عتراف ہے۔کہ نا مسا عد حالا ت کے مقابلے میں عاجزآ گئے ہو جو کچھ بھی نا پسند ہے۔درو انگیز ہے اور تمھارے سکون کو تباہ کرنے والا ہے۔اس کو بھول جاؤ ٗدماغ سے باہر پھینک دو ۔وقت تھوڑا ہے اور کام زیادہ۔اس لیے اس وقت کو جو تم اس قسم کے ما یو س کن خیالا ت میں ضا ئع کرو گے کسی بہتر کام پر صرف کرو ۔اس بات کا انتظار مت کرو کہ خوشی تم تک آئے بلکہ تم خوشی کا تعا قب کرو۔اور جب اس کو حاصل کر لوتو اس کو ایسی آہنی گرفت سے پکڑے رکھوکہ ایک لمحے کے لیے بھی تم سے جدا نہ ہو۔ہماری مثال اس بد سلیقہ عورت کی سی ہے جس میں اس قدر جرات نہیں کہ گھر کا کوڑا کرکٹ با ہر پھینک دے بلکہ ہر قسم کی غلاظت کوبے ترتیبی سے گھر کے کونوں کھدروں میں اکٹھا کرتی رہتی ہے۔ہم لوگوں میں چھوڑ دینے کی طا قت سلب ہو چکی ہے۔ہم اپنے اعصاب کو اس قدر تان کھینچ کر رکھتے ہیں کہ کسی چیز کا ترک کر دیناہمارے لیے نا ممکن بن جاتا ہے۔ہم ہمیشہ گذشتہ صد مات کو جو ہماری زندگی سے قطعی طور پر نکل گئیہوتے ہیں ۔سوچتے رہتے ہیں یعنی ڈوبتے ہوئے تاروں کا ماتم کرتے رہتے ہیں اور اس طرح موجود الوقت مسرتوں اور آسائشوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔خوشی سے زندہ رہنے کی کوشش کرو۔سالِ نو 2016پر کیے ہوئے عہد پر عمل کرنے سے انشاء اللہ صحت و تندرستی ، خوشی و مسرت ، سُکھ و چین ، آرام و سکون ، راحت و سہولت ، اطمینان اور کامیابی و کامرانی آپ کے قدم چومے گی ۔

1,185 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/jf2y484
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *