تشہیر پسند سیاسی لیڈر

Print Friendly, PDF & Email

تحریر:ڈاکٹر میاں احسان باری
مسلسل 70سالوں سے مغربیت کے پیرو کار مقتدر سیاست دان لٹیرے اپنی ذاتی تشہیر کے بھوکے ہیںآج تک کے حکمران بیرونی سیکولر سامراجی ممالک ،ورلڈ بنک ،آئی ایم ایف سے ڈھیروں سود در سود پرقرضے لیکر ملک کو ڈیفالٹ ہو جانے کے قریب پہنچا چکے ہیں پھر انہی قرضوں سے مختلف تعمیراتی سکیموں کا اعلان یوں کرتے ہیں جیسے کہ انہوں نے ذاتی جیب سے یہ سرمایہ مہیا کرنا ہو ۔قرضوں کا دس فیصد تو صرف ٹی وی اخبارات میں تشہیری مہم پر اورانکے قد آدم فوٹو اور بورڈ لگوانے پر خرچ ہو جاتا ہے جو کہ سرا سرناجائز بغیر ضرورت، ناپسندیدہ اور فضول خرچیوں کی مد ہے ایسی اشتہاری مہم کو دیکھ کر بھوک کے شیطانی جن سے بلکتے ،خود کشیاں و خود سوزیاں کرتے عوام دلوں میں کڑھنے اور حکمرانوں پر لعنتیں اور تبرے بھیجنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں ؟جنوبی پنجاب و سندھ کے بھارت سے ملحقہ اضلاع میں توخصوصاً وزراء و سابق ضلعی ناظمین کی آج تک اربوں روپوں کی خرد برد کی تحقیقات جاری رہتی ہیں کہ ایک ہی سکیم سکول سڑک وغیرہ کو نئی بنانے یا مرمت کرنے پردو دو تین تین مرتبہ حیلوں بہانوں سے بل وصول کیے گئے ایک سکول یا سڑک وغیرہ ہر سال کیسے تعمیر ہونے لگ جاتی ہے یہ سب کچھ کاغذات میں اندراج کرنے والے “بیوروکریٹ ماسٹرز “کا کما ل ہے لو گ حیران و پریشان ہیں کہ جس سکیم کا تکمیلی سرٹیفکیٹ بھی جاری ہو جاتا ہے تو پھر اگلے سال کے بجٹ میں وہی تعمیرات کسیے دوبارہ بننے شروع ہو جاتی اور ان کے لیے فنڈز کی ایلوکیشن (allocation)ہو جاتی ہے اس طرح سرکاری خزانوں کو یہی نام نہاد سیاستدان بیورو کریٹوں سے میل ملاپ کرکے کھا پی رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا تک نہیں کہ مال کا حصہ اوپر تک باقاعدگی سے پہنچایا جاتا ہے سابقہ کمانڈو جنرل کے ق لیگی دور میں تو بہت مزے رہے کہ دس دس کروڑ کے فنڈز ڈائریکٹ کرپشن کنگز ضلعی ناظمین و منتخب نمائندوں کے سرکاری اکاؤنٹس میں پہنچ کر پھر ان کے ذاتی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوتے رہے پھر پنجاب و دیگر صوبوں کے حکمرانوں کو بھی مال مفت دل بے رحم کی طرح حصہ بقدر جسہ مسلسل پہنچتا رہاسال کے خاتمہ پر روایتی طور پر اکاؤنٹس چیکنگ کرنے والوں کے اعتراضات والے پہرے کا غذوں تک ہی محدود رہے کہ جنہوں نے کوئی ایکشن لینا ہو نا تھا وہ تو اس غلیظ و مکروہ کاروبار کے خود حصہ دار تھے آج بھی یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کے لیے سڑکوں اور ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف پودے لگانے کے لیے ہر ضلع کو کروڑوں عنایت فرمائے گئے مگر کہیں کوئی درخت پودا لگا نظر نہیں آتا غالباً یہ پودے چاند یا مریخ پر اگائے گئے ہوں گے تاکہ آئندہ نسلیں ان کی ٹھنڈی چھاؤں سے مستفید ہو سکیں یہ رقوم تو مکمل ہی ہڑپ کرلی گئیں تحقیقات وتفتیش مکمل ہو تے ہوتے حکمرانی تبدیل ہو جاتی ہے پھر وہی جاگیردار وڈیرے صنعتکار کسی دوسرے چہروں والے مقتدر ہو کر اگر سابقین پر تنقید کے تبرے برسائیں تو پھر وہ خود کیسے مزید لوٹ کھسوٹ کاکاروبار کرسکیں گے اس لیے گذشتہ راصلواۃ ہی میں بہتری سمجھی جاتی ہے جناب زرداری راجہ رینٹل یو سف گیلانی ادوارکے کھربوں روپوں کی خردبردپرکیا ہوا؟ جو فنڈز بھی منتخب نمائندوں کے اکاؤنٹس میں آتے رہے یا آج آتے ہیں وہ اس میں سے سکیم شروع ہو نے سے قبل ہی دس فیصد کاٹ کر بقیہ حکام کے حوالے کرتے ہیں یا حکومتی اکاؤنٹ میں آئیں تو دس فیصد لیے بغیر سکیم شروع نہیں ہو سکتی پھر ایس ای ،ایکس ای این ،ایس ڈی او کا بالترتیب چھ پانچ اور چار فیصد ہو تا ہے۔بعد ازاں اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ نے اس سارے دو نمبری جھنجٹ جھنجال پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے 3فیصد لینا ہو تے ہیں متعلقہ تعمیراتی ٹھیکیدار نے کم ازکم بارہ سے 15 فیصدمنافع کمانا ہوتا ہے اس طرح سے اگر ایک کروڑ کی رقم کسی سکیم کی جاری ہوتی ہے تو چالیس فیصد توپہلے ہی “خرچ شدہ”سمجھیں اب گنجی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی” فنڈز کی کمی کی وجہ سے ناقص میٹریل استعمال ہو گا یا تو عمارتیں زمین بوس جلد ہو جائیں گی سڑک وغیرہ اکھڑ جائے گی تاکہ نئے فنڈز کی پھر منظوری حاصل کی جاسکے اس طرح دوسری تیسری بار تعمیرات جاری رہتی ہیں پوری ضلعی انتطامیہ متعلقہ منتخب افراد کے” تابع فرمان ” بن کر ہی “اچھے بچوں “کی طرح تعینات رہ سکتی ہے و گرنہ بہاولنگری جاگیردار ایم این اے کو ساتھیوں سمیت روکنے پولیس پر فائرنگ کرنے پر مقدمہ اندراج کی صورت میں متعلقہ ڈی پی اوشارق کمال جیسوں کو صوبہ بدر ہونا پڑتا ہے سابقہ بھٹو مرحوم کے دور میں بھی سندھ کے سیشن جج کی گرفتاری کے واقعہ کی خوب تشہیر ہوئی تھی ایسے اعمال حکمرانوں کی سیاسی دھاندلیوں کے لیے شاہکار بنتے ہیں ۔سرکاری ملازمین انتخابات میں کسی قسم کی چوں چراں کیے بغیر ان کے مرضی کے نتائج کا اعلان نہ کریں تو کیا کریں؟ سپریم کورٹ پر حملے جیسے واقعات بھی انصاف کے راستے میں رکاوٹ ہو تے ہیں ملازمین کی نوکری اور پھر اپنے بچوں کی دال روٹی بھی بنیادی ضرورت ٹھہری ! تعمیراتی سکیموں کی تکیمل پر پھر ان کے افتتاح کا مرحلہ آن پہنچتا ہے جس میں علاقے کی عوام کو اکٹھا کرنے دعوت کا اہتمام کرنے تشہیر کرنے بورڈوں کی تنصیب پر کبھی کبھار تو اصل رقوم سے بھی دگنا تگنا خرچ کرڈالنا متعلقین کے لیے قطعاً کوئی عیب نہ ہے تو انھیں اپنی آنکھوں میں پڑے شہتیر بھی کیوں نظر آئیں گے؟ خداوند قدوس نے جو نظام اسلامی انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھیجا ہے اس میں سرکاری بیت المال سے ایک پیسہ کی ہیرا پھیری بھی سنگین ترین جرم قرار دیا گیا ہے احسن کریکٹر کے خلفائے راشدین لاکھوں میلوں پر حکمران تھے مگر خود ٹانکے لگے کپڑوں میں ملبوس رہے اور چٹائیوں پر بیٹھ کر حکومتی فیصلے ہوتے تھے مگر آج ہمارے ایوان صد وزیر اعظم وگورنر ہاؤسز ،وزراء کے دفاتر کے اربوں فضول ان دیکھے خرچے ہیں حتیٰ کہ عالم اسلام کے تقریباً سبھی ممالک اپنے ہی حکمرانوں کی بد کرداریوں کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہو چکے ہیں ہمدردوں کا روپ دھارے بیرونی سامراجی حکمران اور ان کی فوجیں ہر جگہ قابض ہو چکیں خونِ مسلم کے دریا بہہ رہے ہیں حتیٰ کہ ہمارے ایٹمی پاکستان کی طرف بھی سامراجی قوتیں میلی آنکھوں سے گھورتی ہیں ،ہماری ہی ہزار سالہ حکمرانی میں گذر بسر کرنے والے ہندو بنیے بھی ہمیں کاٹ کھانے کو دوڑیں تو ہمیں بشمول کرپٹ حکمرانوں کے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے ۔

 724 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/yba7k7fl
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...