بھٹہ مزدور کامعاشی مستقبل کیا ہوگا ؟

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: عرفان صفدر دھوتھڑ
بھٹہ مزدور ہمارے معاشرے کا وہ پسماندہ ترین طبقہ ہے جو خط افلاس سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہا ہے شب و روز انتھک محنت کرنے کے باوجود اپنے اور اپنے خاندان کی بنیادی ضرورتیں انتہائی کم اجرت پر پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں مالک کے حاکمانہ رویئے کو برداشت کرتے ہیں پیشگی کے مسائل میں جکڑے ہوئے محکومانہ زندگی گزارنے کے باوجود نسل در نسل اسی شعبے سے وابستہ رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ وہ کسی اور ہنر سے آشنا ہی نہیں ہوتے اوسطا ۳۵سے ۴۰ خاندان ایک بھٹے سے منسلک ہوتے ہیں اور اگر ایک خاندان میں کم از کم ۴ افراد بھی موجود ہوں ایک سو ساٹھ افراد فی بھٹہ بنتی ہے یہ بات صرف پتھیر کی کر رہا ہوں جو مٹی کو سانچے میں ڈال کر اینٹ کی شکل دیتے ہیں اس کے علاوہ نکاسی،لوڈنگ اور جلائی کے شعبے سے بھی ایک کثیر تعداد منسلک ہو کر رزق حاصل کر رہی ہے صرف ضلع شیخوپورہ ہی کو لے لیں جس میں بھٹوں کی کل تعداد ۲۸۰ہے یوں کوئی پچاس ہزار سے زائد تعداد صرف ایک ضلع میں ہی اس شعبے میں مصروف عمل ہیں ۔حالیہ سموگ کے خطرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان بھٹہ جات کو دو ماہ کے لئے بند کر دیاجائے اس فیصلے کے اطلاق کا نوٹیفکیشن پہلے ۲۰ اکتوبر سے تھا جسے بعد ازاں مؤخر کر کے ۲۷ اکتوبر کیا گیا اور اب ایک بار پھر اس فیصلے کو ۳ نومبر تک نافذ العمل کر دیا گیا جسے حتمی فیصلہ کہا جا رہا ہے یہ فیصلہ ماحولیاتی آلودگی اور خاص طور پر سموگ کے اثرات سے انسانی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے کیا گیا حکومت پنجاب کا یہ فیصلہ جہاں قابل ستائش نظر آتا ہے کیونکہ اس امر سے نہ صرف ماحول صاف ستھرا ہوگا بلکہ سموگ کے خطرناک اثرات سے انسانی زندگیاں محفوظ رہیں گی وہیں اگر تصویر کے دوسرے رخ پر بھی نگاہ ڈالی جائے تو اس کا اثر صرف ایک ضلع کی پچاس ہزار اور پنجاب بھر کی لاکھوں بھٹہ ورکرز کی زندگیوں پر بھی آئے گا جو اس شعبے کی وجہ سے بر سر روزگار ہیں جن کے گھروں کے چولہے بھٹوں پر مزدوری کرنے کی وجہ سے جلتا ہے قابل فکر بات یہ ہے کہ بھٹہ انڈسٹری کے بند ہونے سے ناصرف لاکھوں بھٹہ مزدور بے روزگار ہوجائیں گے وہاں دوسرے بھی کئی شعبے اس بندش کی زد میں آئیں گے بھٹوں کے بند ہونے سے کوئلہ کا کاروبار تو براہ راست متاثر ہوگا جس سے ملکی معیشت پر کو اچھا اثر نہیں پڑے گا اس کے علاوہ دیگر شعبہ جات جو اس بندش سے ختم ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ان میں سریا، سیمنٹ ،ریت، بجری،غرض کہ تعمیراتی شعبے سے جڑے ہوئے تمام کاروبار بحران کی زد میں آجائیں گے اور ان تمام شعبوں سے وابستہ لیبر بھی بے روزگاری کی دلدل میں دھنس جائے گی بلکہ عام میسن اور مزدوربھی اس ٹھوکر کے باعث منہ کے بل جا گریں گے ذرا غور کریں کے صرف بھٹہ انڈسٹری کے بند ہونے سے سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں خاندان بے روزگار ہوکر بھوک کے بھڑکتے الاؤ میں جل کر بھسم ہو جائیں گے ۔ایک طرف تو حکومت پاکستان کے پلان کے مطابق پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا پروگرام ہے جس پر مفصل بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گھروں کی تعمیر شروع ہوتے ہی بے روزگاروں کے لئے روزگار کا عمل بھی شروع ہوجائے گا عام مزدور سے لے کر انجینئر تک سب ہی اس پروگرام کے توسط سے روزگار کے حصول میں کامیاب ہو جائیں گے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر ہی کی وجہ سے ایک کروڑ نوکریاں مہیا ہو ں گی تو وہیں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی ہو گی کے گھروں کی تعمیر کے لئے سب سے پہلے جس چیز کی ضرورت ہوگی زمین کے بعد وہ اینٹ ہے اور اگر تمام بھٹے ہی بند کر دیئے گئے تو اینٹ کہاں سے آئے گی اور اگر اینٹ ہی نہ ہوئی تو گھروں کی تعمیر کا کام کیسے شروع ہو گا پھر ایک کروڑ نوکریوں کی بات بھی مکمل ہوتی دکھائی نہیں دیتی لہٰذا یک جنبش قلم تمام بھٹے بند کرنے سے کہیں بہتر تھا کہ افراط زر کو روکنے کے لئے پہلے اچانک بے روزگاری کی افتاد کی زد میں آنے والے ورکرز کے لئے بھی کوئی پلاننگ کر لی جاتی تاکہ ماحول سموگ سے بھی صاف کیا جاسکے انسانی زندگیوں کی بھی حفاظت ہو سکے یہ نہ ہو کہ سموگ سے انسانی جانیں بچا کر بھوک کی عفریت کے سپرد کر دی جائیں کیونکہ بہرحال مقصد انسانی جانوں کی حفاظت ہے ناکہ یہ کہ ایک مصیبت سے بچا کر دوسری میں ڈال دیا جانا ۔میں یہاں کچھ سماجی تنظیموں کا ذکر کرنا چاہوں گا جن میں قابل ذکر BLLF پاکستان(باؤنڈڈ لیبر لیبریشن فرنٹ ) ہے جس نے نہ صرف اس مسئلے کی نشان دہی کی بلکہ حکومتی ایوان تک پہچانے کے لئے مختلف سماجی تنظیموں ،میڈیا کے اراکین ،اور حکومتی نمائیندوں پر مشتمل ایک اجلاس منعقد کروایا جس کی صدارت جنرل سیکریٹری بی ایل ایل ایف سیدہ غلام فاطمہ نے کی جہاں اس مسئلے کی نا صرف نشاندہی کی گئی بلکہ اس کے حل کے لئے لائحہ عمل بھی مرتب کیا گیا ۔کیونکہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ نیپالی ماڈل کی پیروی کریں جہاں زگ زیگ کے نام سے ٹیکنالوجی موجود ہے جس کے استعمال سے ماحول آلودہ نہیں ہوتا اس کے استعمال سے اینٹون کی پیداوار بھی خاطر خواہ بڑھتی ہے اور بھٹہ مالک کی آمدن بھی بڑھتی ہے اس ٹیکنالوجی پر آغاز میں ۲۵ سے ۳۰ لاکھ روپے خرچہ آتا ہے جو کہ بقول بھٹہ مالکان ان کی پہنچ سے باہر ہے اور وہ جلد اس ٹیکنالوجی کو لگانے کے متحمل نہیں ہوسکتے ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ آف پنجاب سنجیدگی سے اس مسئلے کو دیکھے اور ایسی پالیسی مرتب کرے جس سے بھٹہ ورکرز کی زندگی بھی متاثر نہ ہو اور مطلوبہ مقاصد بھی حاصل ہو جائیں کیونکہ ملک ایک بار پھر دھرنوں اور ہڑتالوں کا متحمل نہیں ہو سکتا میری دلی خواہش ہے کہ میرا پاک وطن بار بار کی توڑ پھوڑ ،افراتفری کی افتاد سے محفوظ رہے ۔ لہٰذا میری حکومت پنجاب سے گزارش ہے کہ تمام بھٹوں کو یکدم بند کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ہر ضلع میں مرحلہ وار طور پر اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں ناکہ تمام انڈسٹری ہی جام کر دی جائے مرحلہ وار کام کرنے سے ایک تو اینٹ کا ریٹ کنٹرول میں رہے گا ،تعمیراتی کام بالکل ہی بند نہیں ہوجائے گا بے روزگاری اسطرح بھی پھیلے گی مگر اتنی بڑی تعداد میں نہیں کہ کوئی نئی احتجاجی تحریک جنم لے سکے امید ہے حکومت پنجاب راقم کی اس استدعا پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے لاکھوں مزدوروں کو فاقہ کشی جیسے عفریت سے بھی محفوظ رکھے گی ۔

720 total views, 6 views today

Short URL: //tinyurl.com/ya8du3sv
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *