بھارتی انتخابات : انتہا پسند جتھوں کو شکست

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: آصف خورشید رانا
بھارت کی تین اہم ریاستوں میں بھارتی جنتا پارٹی کی شکست نے مودی سرکار کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ۔مدھیہ پردیش ، راجھستان اور چھتیس گڑھ کے انتخابات میں ملنے والے نتائج اگرچہ غیر متوقع تو نہیں تھے لیکن ان نتائج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مودی سرکا ر کا سیاست میں اثر ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ ابھی محض ایک سال پہلے تک بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کو دنیا کی دس بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا لیکن اس شکست نے بتادیا کہ مودی کا جادو ختم ہو رہا ہے ۔نریندرا مودی کی سیاست کا محورومرکز مسلم دشمنی اور انتہا پسند ہندوؤں کا راج بن چکا تھا ۔انتخابات سے قبل میڈیا پر مودی سرکار کی کارکردگی کے حوالہ سے مسلسل جائزے اور سروے پیش کیے جارہے تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ بھارت میں ایک ہی شخص ہندوؤں کا دیوتا بن کر ابھر رہا ہے اور وہ شخص نریندرا مودی ہے۔ چار سال قبل نریندرا مودی بھارتی جنتا پارٹی نے دو نعروں کی بنیاد پر میدان مارا تھا۔ ایک طرف مسلم دشمنی اور زعفرانی سیاست کے باعث انتہا پسند ہندوؤں کو رام کیا تھا تو دوسری طرف پڑھے لکھے لوگوں کو ترقی اور گڈ گورننس کے نام سے اپنی طرف مائل کیا تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کا خاتمہ ، افراط زر کا خاتمہ اور اقتصادی ترقی کے لیے اقدامات کا وعدہ کیا گیا تھا ۔یہ بھی درست ہے کہ ان دونوں نعروں کو پذیرائی ملی اور 1980کے بعد دوبارہ پہلی دفعہ ایک بھاری مینڈیٹ کے ساتھ بھارتی جنتا پارٹی برسرقتدار آئی ۔ اپنے پہلے سو دنوں میں بھارتی جنتا پارٹی اگرچہ کچھ خاص اقدامات نہیں کر پائی تاہم ان سو دنوں میں گڈ گورنس کا عملی مظاہرہ ضرور ملا ۔ ان سو دنوں میں بھارتی جنتا پارٹی کے نعروں کی گونج بھی سنائی دیتی رہی ۔ یہی وجہ تھی کہ پہلے سودنوں کے بعد کیے گئے سروے رپورٹس میں ساٹھ فیصد سے زائد عوام نے مودی سرکار پر اعتماد کا اظہا ر کیا۔شاید اس کی ایک بری وجہ یہ بھی تھی کہ عوام ابھی مزید وقت دینا چاہتی تھی ۔دہشت گردی، کرپشن او ر کالا دھن کو روکنے کے لیے کچھ عرصہ بعد ہی بھارتی جنتا پارٹی نے نوٹ بندی کا فیصلہ کیا ۔اس فیصلہ کے باعث کرپشن اور کالادھن کو تو نہ روکا جا سکالیکن مزدور طبقہ ، کسان اور روزانہ کی بنیاد پر کاروبار کرنے والا طبقہ سب سے ذیادہ متاثر ہوا ۔یہ پہلا فیصلہ تھا جس نے معیشت کے محاذ پر مودی سرکار کی مقبولیت کو بری طرح متاثر کیا۔ بڑے نوٹوں کی منسوخی سے کرپشن رکنے کی بجائے ملک کی جی ڈی پی شرح دو فیصد کم ہو گئی جس کی پیشین گوئی سابق وزیر اعظم اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر من موہن نے کی تھی ۔بینکوں کے باہر لگی لائنوں نے ثابت کر دیا کہ حکومت کا یہ فیصلہ قطعی طور پر غلط تھا اور بروقت چھوٹے نوٹوں کی عدم فراہمی نے عام آدمی کو شدید متاثر کیا جس کی وجہ سے حزب اختلاف کی جماعتوں کو حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کا موقع مل گیا۔بھارتی جنتا پارٹی نے اس فیصلہ کو دہشت گردی سے جوڑ کر اپنی گرتی مقبولیت کا سنبھالنے کی کوشش کی ۔جو بھی حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف بات کرتا اسے دہشت گردی کاحمایتی قرار دے کر چپ کروانے کی کوشش کی گئی لیکن عوامی سطح پر اس کو پذیرائی نہ مل سکی ۔اس موقع پر ایک کیے گئے سروے میں کہا گیا کہ 55فیصد لوگوں نے رائے دی ہے کہ نوٹ بندی سے کالا دھن پر کوئی فرق نہیں پڑا جبکہ 48فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے دہشت گردانہ سرگرمیوں پر بھی کوئی فرق نہیں پڑا ۔بھارت کا شماران بڑے ممالک میں ہوتا ہے جنہیں سب سے ذیادہ تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ بھارت نے اپنے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے برآمدات کو بڑھانے کی بجائے محض درآمدی ٹیرف میں بڑھانے پر اکتفا کیا جس سے خاطر خواہ فائدہ نہ ہوسکا۔ عمومی طور پر مودی سرکار عام آدمی کے لیے مفاد کے لیے کچھ خاص کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔
خارجہ پالیسی کے محاذ پر مودی سرکار خاصی متحرک رہی تاہم اس کی تما م تر توجہ پاکستان کو تنہا کرنے پر رہی ۔عالمی سطح پر دنیا میں مخاصمت کی پالیسیاں دم توڑ رہی ہیں جبکہ تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔اسی طرح علاقائی سطح پر تعاون کا رجحان بھی ذیادہ بڑھ رہا ہے ۔تاہم اس محاذ پر بھارت نے ایک طرف پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں میں اضافہ کر دیا دوسری طرف علاقائی تنظیموں میں مثبت کردار ادا کرنے میں کوئی دلچسپی نہ لی ۔ یہ درست ہے کہ بھارت کے عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں پہلے کی نسبت ذیادہ بہتری آئی ہے لیکن دوسری طرف علاقائی سطح پر بھارت کا کردار خاصا منفی رہا ہے۔ بھارت نے اپنے دو بڑے ہمسایہ ممالک چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں دکھائی ۔ پاکستان کی جانب سے دوطرفہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی دعوت کو نہ صرف ٹھکرایا بلکہ پاکستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کو سرکاری حیثیت دینے کی بھی کوشش کی ۔ چونکہ امریکہ کو جنوبی ایشیا میں ایک ایسا پارٹنر درکار تھا جو نہ صرف جنوبی ایشیا میں اس کے اثرو رسوخ کو برقرار رکھنے میں مدد کرے بلکہ ایشیا پیسفک میں چین کے خلاف بھی امریکہ کو ذیادہ سے ذیادہ مددفراہم کرے ۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ بھارت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات تو مزید مستحکم ہوئے تاہم دوسری جانب چین کے ساتھ اس کے مخاصمانہ رویے کی وجہ سے علاقائی سطح پر اس کو پذیرائی نہ مل سکی ۔بھارتی جنتا پارٹی کے اسی رویے کی بدولت بھارت کو ہر سال دفاعی بجٹ میں نہ صرف اضافہ کرنا پڑا بلکہ اس کے جنگی جنون کی وجہ سے عوامی فالح و بہبود کا بڑا حصہ جنگی ضروریات میں خرچ کیا جانے لگا۔بھارتی جنتا پارٹی کی پر تشدد ذہنیت نے بھارتی سرکار کو کشمیر سمیت دیگر علیحدگی پسند علاقوں میں بے رحمانہ تشدد کرنے پر مجبور کیا جس کے نتیجہ میں یہ تحریکیں تو ختم نہ ہو سکیں البتہ ان علاقوں میں آزادی کی تحریکیں ردعمل کے طور پردوبارہ زور پکڑ نے لگیں ۔پہلی دفعہ ہوا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ۔عالمی سطح پر بھی کشمیریوں کے قتل عام پر بھارت کو خاصی سبکی اٹھانا پڑی جبکہ دوسری جانب کشمیری تحریک میں بھی ایک نئی جان پڑ گئی۔ بھارت میں موجود حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کی اس کمزوری سے خوب فائدہ اٹھایا اور عوام میں مودی سرکار کے خلاف مہم چلائی جو کسی حد تک کامیاب رہی ۔
بھارتی جنتا پارٹی کی نظریاتی طور پروابستگی انتہا پسند جماعت راشٹریہ سیوک سنگھ سے ہے ۔چنانچہ اس کے برسراقتدار میں آتے ہی جہاں اس انتہا پسند جماعت کے اہم رہنماؤں کو اعلیٰ عہدوں پر جگہ مل گئی وہاں اس کا رکنان کو مسلم دشمنی کے لیے سرکاری حمایت بھی مل گئی ۔چنانچہ بھارت کا سیکولر نقاب تیزی کے ساتھ اترتا چلا گیا اور اس کا وہ اصل چہرہ دنیا کے سامنے ابھرا جس میں مسلم دشمنی سمیت دیگر اقلیتوں کا خاتمہ شامل ہے ۔ اس دور میں مسلم کش پالیسیوں پر عمل کرنے میں نہایت تیزی دکھائی گئی۔ گائے رکھشہ کے نام پر مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا ، مساجد کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائی گئی جس کے نتیجہ میں سینکڑوں مساجد کو گرایا گیا ، اسی طرح مسلمان بستیوں کو آگ لگانا بھی معمولی کارروائی سمجھا جانے لگا ۔ آئے روز اور دن دیہاڑے مسلمانوں کا قتل ،ان پرتشدد کے بڑھتے واقعات پرنہ صرف دنیا میں ہلچل پیدا ہوئی بلکہ اندرونی سطح پر اس پالیسی کے خلاف سخت ردعمل پیدا ہونا شروع ہوگیا ۔ انتہا پسند جماعتوں میں شامل مجرموں کے لیے مودی سرکار ایک نعمت کے طور پر سامنے آئی ۔ انہیں مکمل تحفظ دیا گیا جس کے نتیجہ کے طور پر دہلی کو دنیا میں ’’ جنسی ذیادتیوں کا شہر‘‘ قرار دیا گیا ۔ بین الاقوامی سیاحوں کے قتل اور ان کے ساتھ جنسی ذیادتی کے واقعات نے بھارت کے بھیانک چہرے کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ۔یہ انہی انتہا پسند تنظیموں میں شامل افراد کا کارنامہ تھا کہ دہلی جرائم کا گڑھ بن گیا ۔ اس موقع پرتین ریاستوں میں ہونے والے انتخابات نے واضح کر دیا کہ بھارتی عوام نے جن امیدوں پر بھارتی جنتا پارٹی کو ووٹ دیے ہیں وہ پوری نہیں ہوئیں اور بھارتی عوام نے اسی بنیاد پر بی جے پی کو مسترد کر دیا ۔ان نتائج کا اثر یقناً 2019میں ہونے والے عام انتخابات پر بھی پڑے گا اور دنیا یہ امید کرنے لگی ہے کہ بھارتی عوام انتہا پسند جتھوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گی ۔

465 total views, 9 views today

Short URL: //tinyurl.com/y7qc5cjg
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *