بر آعظم ایشیا کی پہلی تین خاتون حکمران

Print Friendly, PDF & Email

صنف نازک عورت کو ہمیشہ سے ہی کمزور سمجھا جاتا رہا ہے اس لئے دنیا کے مختلف میدانوں میں انہیں نظر انداز کیا گیا لیکن تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ایسی خواتین بھی گزری ہیں جنہوں نے اپنے زور بازو سے اقتدار کی کرسی تک پہچنے میں کامیابی حاصل کی ہے دنیا کی تاریخ سے ہٹ کر برآعظم ایشیا کی تاریخی کا جائزہ لیا جائے تو تین خواتین کا نام نمایا ں طور پر نظر آتا ہے ان تین خواتین حکمرانوں میں سے دو کا تعلق ماضی کا دردستان اور حال کے گلگت سے ہے اس سلسلے کا جو پہلا نام ہے وہ خاتون حکمران ملکہ نور بخت بنت شری بد دیوا جسے شری بدت کہا جاتا ہے سر فہرست ہے ۔اس خاتون نے عوامی مدد سے اپنے ظالم باپ کی حکمرانی کا خاتمہ کیا اور اس کی جگہ خود حکمران بن گئی اور گلگت کی راجدھانی میں چالیس سال تک اپنے سر پر تاج سجائے رکھا۔اس کے بعد گلگت کی حکمرانی تراخان خاندان کو منتقل ہوئی ۔تاریخ میں ایشا کی دوسری خاتون حکمران میں رضیہ سلطانہ کا ذکر ہے وہ شمس الدین التمش کی بیٹی تھی اس کے والد نے اسے بیٹوں پر ترجیح دیتے ہوئے اپنی زندگی میں ہی جانشین قرار دیا تھا لیکن التمش کے مرنے کے بعد ایک بھائی نے تخت پر قبضہ کیا جسے رضیہ سلطانہ نے ۱۲۳۶ میں بزور شمشیر قبضہ واپس حاصل کیا۔۔۔کہا جاتا ہے کہ تخت سنبھالنے کے بعد انہوں نے زنانہ لباس پہننا چھوڑدیا تھا اور مردانہ لباس زیب تن کرکے دربار اور میدان جنگ میں شرکت کرتی تھیں۔ایشا کی تیسری حکمران خاتون رانی جواری کے نام سے مشہور ہوئی۔اس خاتون کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ جب علی شیر خان انچن گلگت پر حملہ اور ہوئے تو اس وقت یہاں مرزہ خان کی حکمرانی تھی اس راجے کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی سوائے ایک بیٹی کے اسی بیٹی جس کا نام جواری تھا علی شیرخان انچن نے اپنے بیٹے کے عقد میں لیا اور اسے سکردو لے گئے۔۔جب مرزہ خان فوت ہوا تو وزیر ریشو نے ملکہ جوار خاتون جو بیوگی کی زندگی گزار رہی تھی سکردو سے لا کر گلگت کے تخت میں بیٹھا دیا۔اور اس کا بیاہ راجہ فردوس نگر کے ساتھ کر دیا۔ملکہ جواری جراعت و استقلال میں میں بے مثال تھی اگر اسے گلگت کی رضیہ سلطانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ ۱۶۵۲ سے ۱۶۷۰ ۶ تک گلگت کی حکمران رہی اور ایک مدبر اور بہترین حکمران ثابت ہوئی۔

372 total views, 2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/n8b4boe
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...