بد چلن

Print Friendly, PDF & Email

افسانہ نگار: در نجف، بھلوال
لکڑی کے دروازے پر دستک دیتی نذیر بی بی جھریوں سے اندر جھانک رہی تھی اور دستک دیتی جا رہی تھی۔آ رہی ہوں کون ہے حلیمہ نے اندر سے ہی جواب سوال کر دیا دروازہ کھلا تو حلیمہ نذیر بی بی کو دیکھ کر خوشدلی سے مسکرائی اور اندر آنے کو کہا۔۔۔۔۔۔۔بیٹھو۔۔۔۔۔مصباح پتر چاہ بسکٹ لے آ۔۔۔۔۔۔۔حلیمہ نے نذیر بی بی کو بیٹھنے کا کہہ کر مصباح کو کہا۔وہ خاموشی سے اب چائے بنانے لگی اور کان اماں کی طرف لگائے وہ کپوں میں چائے انڈیلنے لگی ایک چھوٹی سی ٹرے سجائے وہ چائے رکھتی چلی گئی۔رشتہ اچھا ہے صلاح مشورہ کر کے مجھے بتانا پھر۔۔۔۔۔۔۔نذیر بی بی نے چائے کا آخری سپ لیا اور ہدایت کرتی ہوئی چادر سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔حلیمہ دروازے تک چھوڑنے ساتھ چل پڑی۔وہ جو کان لگائے دروازے کے ساتھ چھپی کھڑی تھی ان کے نکلنے سے پہلے ہی فوراً وہاں سے کھسک گئی۔مصباح۔۔۔۔۔پتر بوہا بند کر لے میں زرا دوکان تک جا رہی ہو۔حلیمہ مصباح کو تاکید کرتی باہر نکل گئی۔اچھا بے بے کر لیتی ہوں۔۔۔مصباح نے جواباً کہا۔۔۔۔مصباح بہت خوش تھی اپنے گھر کی خوشی آنکھوں میں آنے والی زندگی کے خواب سجائے وہ آنے والی زندگی کے بارے میں سوچتی رہتی ایک مسکراہٹ اسکے لبوں کا احاطہ کیے رکھتی اب تو وہ گھر کو سجانے سنوارنے میں لگی رہتی۔۔۔۔پانچ مرلے کا مکان تھا جس میں دو کمرے کچے تھے جنکی کچی مٹی سے لپائی کی جاتی تھی اور اچھی مٹی وہ پیدل چل کر دونوں سر پر ڈھوتی تھیں دیواروں پر پوچا لگاتیں یوں وہ غربت میں بھی بہت سلیقہ مندی سے گھر کی خوبصورتی بنائے رکھتیں۔۔۔۔۔میٹرک کے بعد مصباح نے سلائی کڑھائی میں مہارت حاصل کر لی اور اب وہ کپڑے سلائی کرتی اور اپنا خرچ نکال لیتی تھی۔نذیر بی بی کی عمر ستر کے لگ بھگ تھی جو اس گاؤں کے ہی نہیں اس سے ملحقہ اور آس پاس کے سبھی گاؤں تک ان کی جان پہچان تھی۔۔۔رشتے کرواتیں تھیں اور اللہ کے فضل سے کامیاب بھی رہتے یوں انکی سبھی عزت کرتے تھے آج وہ مصباح کے لئیے رشتہ لائیں تھیں۔۔۔محمد اقبال کا رشتہ جو اکلوتا ہے۔ ایک ماں ہے اور کچھ زمین ہے۔ مال مویشی ہیں۔ یوں کہا جائے کہ زمیندارہ کرتا ہے ۔ہر لحاظ سے یہ رشتہ مناسب ہے۔ بس اب حلیمہ نے اپنے بیٹے ساجد کے ساتھ مشورہ کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔دوسرے دن نذیر بی بی انہیں ساتھ لے آئی لڑکے والے مصباح کو پسند کر کے شگن کے طور پر پانچ سو اسکے ہاتھ پر رکھ گئے اور جلد شادی کا کہہ گئے۔یہ تو ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی بات ہوئی اتنی بھی جلدی کیا ہے حلیمہ کو انکی جلدی پر اعتراض ہونے لگا اماں چنگے لوگ ہیں فکر نہ کر میں انکا پتہ کر لوں اچھا ہے نا جلدی فرض ادا ہو جائے۔۔۔۔۔۔ساجد نے ماں کو تسلی دی۔۔۔۔یوں مصباح کی شادی ہو گئی۔ اقبال اچھا لڑکا تھا۔ وہ اسکا بہت خیال رکھتا۔ دونوں اپنی زندگی سے بہت خوش تھے۔ اب اقبال اپنا وقت اپنی بیوی کے ساتھ گزارتا ۔اس کی ماں اس کی کمی محسوس کرنے لگی۔ ماں سے تو ملاقات اب برائے نام ہی ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔شمیم مائی اب بہو کو قصور وار سمجھنے لگی تھی اب باقاعدہ اندرونی طور پہ جنگ چھڑ گئی تھی۔ساس کے سرد رویئے کو مصباح نے محسوس کر لیا لیکن اس نے گھر کے ماحول کو خراب نہیں ہونے دیا جب ساس نے دیکھا کہ بہو کے خلاف بیٹے کے کان بھرنے سے بھی کچھ نہیں ہو رہا تو اس نے اور طریقے نکال لئیے۔۔۔۔۔۔۔مصباح ہی باورچی خانہ سنبھالتی تھی وہ جو پکاتی شمیم مائی چپکے سے کبھی نمک تیز کر دیتی کبھی مرچ پھر وہ فساد پڑتا کہ خدا کی پناہ۔۔۔۔۔۔ ایسا اب روز ہونے لگا اقبال اب مصباح سے دور رہنے لگا اس کی شکایتں بڑھنے لگی تھیں اب اقبال ماں کے قریب ہو گیا شمیم پھولے نہ سماتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔دو برس گزرے قدرت کو رحم آگیا اور ایک چاند سا بیٹا اسکی جھولی میں ڈال دیا۔ اب پھر سے اس نے اقبال کا دل جیت لیا یہ ہی بات شمیم ہضم نہ کر پا رہی تھی اس نے بچے کو گود لے لیا وہ مصباح کو قریب نہ آنے دیتی اور وہ گھر کے کاموں میں جتی رہتی اسکا کام بس بچے کو دودھ پلانا تھا۔۔قدرت ایک بار پھر مہربان ہوئی خدا نے اسے دوسرے بچے سے نوزا وہ بہت خوش تھی مگر یہ خوشی بھی زیادہ نہ رہی جب ایک روز اسکا فون بجا اس نے ہیلو کہا اور دوسری طرف اسکا نمبر سیو ہو گیا اب تو ہر دس منٹ بعد فون بجنے لگا اور وہ سائیڈ پہ جا کر اس کی منت کرتی کہ جو بھی ہو فون مت کرو مجھے لیکن کچھ فرق نہ پڑا میسج آتے جن میں کبھی بیہودہ باتیں لکھیں ہوتیں اور کبھی شاعری۔۔۔ ۔۔۔ ۔ساس اب ہر وقت ٹوہ میں لگی رہتی اور آخر کار ایک دن اسے موقع مل گیا۔۔۔۔۔۔۔مصباح بچوں کو نہلانے میں مصروف تھی فون بجا جو شمیم نے اٹھا لیا دوسری طرف جو محبت نامہ پیش ہوا وہ چپ کر کے سنتی رہی اس نے مو بائل اپنے پاس رکھ لیا اور بے چینی سے بیٹے کا انتظار کرنے لگی۔مصباح نے موبائل ڈھونڈا پر نہ ملا اسے پتہ چل گیا شمیم نے اٹھا لیا لیکن جان بوجھ کر نظر انداز کر گئی۔شام میں جب اقبال اپنے کام سے لوٹا تو ماں اسے لیکر الگ کمرے میں لے گئی دروازہ بند ہو گیا اور مصباح کے کھاتے میں ناکردہ گناہ شامل کیئے جانے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصباح بند دروازے سے باہر آتیں آوازیں صاف سن رہی تھی مگر اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ اپنی صفائی کیسے پیش کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیری بیوی بدچلن ہے اقبال کیسا بھولا ہے تو تو اسکی مکاریوں میں آ جاتا ہے وہ تجھے جو کہتی ہے تو کرتا چلا جاتا ہے اب بھگت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ اماں تجھے تو خدا واسطے کا بیر ہے اس سے ہر وقت ٹوکتی رہتی ہے میری بات سن اماں ساس بہو کے جھگڑے میں مجھے نہ گھسیٹا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔آپے مکا لیا کرو تم دونوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اقبال نے جھنجھلا کر کہا۔تجھے ایسے یقین نہیں آئے گا ناں۔۔۔۔۔ کیا کہہ رہی ہو اماں مصباح ایسی نہیں ہے اور یہ بات آپ اتنے یقین سے کیسے کر سکتیں ہیں۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ اقبال نے بے یقینی سے کہا۔لے میں کوئی اندھی ہوں تیری طرح سارا دن اسکی حرکتیں دیکھتی ہوں ان آنکھوں سے۔شمیم مائی نے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کر کے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا۔اور بغور اقبال کا جائزہ لیا کہ اسکی باتوں کا کتنا اثر ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔سارا دن یہ موبائل بجتا رہتا ہے اور وہ کانوں سے لگائے رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ٹھہر جا تجھے یقین نہیں آتا نا لے دیکھ فون۔۔۔۔۔۔۔۔شمیم نے فون لیکر اقبال کے ہاتھ میں دے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔اقبال کے چہرے کے تاثرات بدلتے دیکھ کر وہ سکون میں آ گئی۔اقبال نے فون چیک کرنا شروع کر دیا جس میں ایک نمبر پر صرف رسیو کالز تھیں انباکس میں ان کھلے میسج تھے جو اسی نمبر پر کیے گئے تھے وہ ایک ایک میسج پڑھتا جا رہا تھا اس کی عقل نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا غصے اور جذباتی پن نے اسے گھیر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصباح بچے کو گود میں اٹھائے انجانے خوف سے کانپ رہی تھی کہ دروازہ اتنی زور سے کھلا کہ مصباح کا دل دھڑکنا بھول گیا۔۔۔۔۔
وہ اقبال تھا جس نے دروازے کو لات مارتے ہوئے کھولا تھا اندر آتے ہی اس نے موبائل مصباح کے آگے کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ نمبر کس کا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ کس کا ہے مصباح نے گھبرا کر کہا۔تو کالیں کیوں اٹھاتی رہی؟ میسج آتے رہے ہیں تو باتیں کرتی تھی اس سے۔۔۔۔ یہ تو اماں نے پکڑا تجھے ورنہ تو میری آنکھوں میں دھول جھونکتی رہتی وہ غصے میں اسے گالیاں دیتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس کے سامنے اپنی صفائیاں دینے کی ناکام کوشش کرتی رہی لیکن اسکی ایک نہ سنی گئی۔اس نے بچے کو اس کی گود سے اٹھا کر چارپائی پر لٹایا اوروہ اسے گھسیٹتے ہوئے صحن میں لگے سکھ چین کے درخت کے پاس پٹختے ہوئے نجانے کیا تلاش کرنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی وہ رسی پکڑے اسے باندھنے لگا وہ منت سماجت کرتی رہی میری بات سن لو مگر وہ اسے مارتے ہوئے باندھنے لگا۔۔۔۔شمیم مائی ایک طرف کھڑی تماشہ دیکھتی رہی۔شور کی آواز سن کر کچی دیواروں کے پار لوگوں کے سر بلند ہونے لگے کئی لوگ چھتوں پر بنا ٹکٹ لائیو ٹیلی کاسٹ دیکھنے لگے۔شمیم مائی نے لوگ دیکھے تو جھوٹی ہمدردی جتاتے ہوئے بیٹے کو دبے لفظوں میں جھڑکنے لگی مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا اسے کسی کی کوئی پرواہ نہ تھی باندھ کر اسکے ہاتھ ڈنڈا لگ گیا اور وہ اس پر بنا دیکھے ہی ڈنڈے برسانے لگا اسے گالیاں دیتا رہا۔وہ مار کھاتی دوہائیاں دیتی رہی مگر کسے پرواہ تھی لوگ دیکھتے سرگوشیاں کرتے رہے مگر کسی نے آ کر نہ روکا۔وہ مار مار کر ہانپتے ہوئے اپنی جیب سے موبائل نکال کر نمبر ملانے لگا۔۔۔۔۔۔۔لالہ اپنی بد چلن بہن کو لے جا میں اسے اپنے گھر برداشت نہیں کر سکتا صبح سویرے آ کر لے جا ورنہ میں اسے قتل کر دینا ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہ کر اس نے فون بند کر دیا اور وہ کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔شمیم مائی نے بے حال سی مصباح کو رسی سے آزاد کیا اور چلتی بنی۔۔۔۔۔۔۔ساجد حیران سا ساری بات ماں کو بتانے لگا۔۔۔۔۔۔۔نہیں یہ جھوٹ ہے میری بچی ایسی نہیں ہے حلیمہ فکر مندی سے رونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
اماں خدا کی قسم اگر یہ سچ ہوا نہ تو میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔۔۔۔۔۔ساجد نے لوگوں کی باتیں سوچتے ہوئے غصے سے کہا۔اور حلیمہ خاموش سی ساری رات آنسو بہاتی رہی نیند تو اس رات کسی کو نہ آئی اور اگر آئی تو بس شمیم کو۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے مصباح کو اقبال کی نظروں میں گرانا تھا سو گرا دیا مگر وہ نہیں جانتی تھی حسد کی اس آگ میں اس نے اپنا گھر کا سکون ہی نہیں سارا گھر ہی پھونک دیا ہے۔۔۔۔
ساری رات مصباح درد سہتی بچے کو سنبھالتی رہی اس کا بازو نہیں ہل رہا تھا لگتا تھا بازو کی ہڈی پر چوٹ لگی تھی وہ صبح کے بارے میں سوچتی رہی۔۔۔۔آ لے لالہ میں اسے بتاوں گی اقبال نے میرے ساتھ کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوچتے سوچتے وہ سو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔لالہ میں نے کچھ نہیں کیا اقبال کو غلط فہمی ہوئی ہے قسم اٹھوا لیں میں۔۔۔۔۔اچھا غلط فہمی؟ تو نے مجھے بتایا اک واری وی کہ رانگ نمبر سے کال آتی ہے نہیں نا؟ او لالہ میری بات سن یہ بات بھی کرتی تھی اس سے میسج بھی کرتی تھی اور اب یہ سونے کی بھی بن کہ آ جائے میرے گھر میں اس کے لئیے کوئی جگہ نہیں ہے بس میں نے کہہ دیا۔اقبال نے بات ختم کردی۔او بالے کیا ثبوت ہے تیرے پاس ہیں؟ ساجد جو خاموشی سے سب سن رہا تھا اس نے اقبال کو گھورتے ہوئے پوچھا۔ثبوت بڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بنا ثبوت میں الزام نہیں لگا رہا اس پر۔ یہ لے ثبوت۔۔۔۔۔۔۔اقبال نے جیب سے موبائل نکال کر ساجد کو دے دیا۔۔۔۔۔مصباح اٹھی اور قرآن پاک اٹھا لائی تم لوگ اس پر تو یقین رکھتے ہو نا میں قسم اٹھاتی ہوں یہ سب جھوٹ ہے میرے دل میں چور نہیں ہے لالہ اس نے امید سے اپنے ماں جائے کو دیکھا۔۔جو موبائل کی تلاشی لے رہا تھا اس نے بہن کو دیکھا ہی نہیں۔جو شوہر سے غداری کرے اسکی بھلا قسم پر کون یقین کرے گا ؟ شمیم نے جلتی پہ تیل چھڑکا۔۔۔۔اماں ایسا نہ بول میں اپنے بچوں کی قسم کھاتی ہوں میں نے کچھ نہیں کیا ہاں غلطی کی میں نے وہ بھی ڈر سے کہ کوئی بکھیڑا۔۔۔۔۔۔یہ ہی غلطی ہے تیری ساجد نے اسکی بات کاٹتے ہوئے اس پر پسٹل تان کر کہتے ہی اس پر فائر کر دیا گولی اس کے سر سے پار ہو گئی اور اسکی کھلیں آنکھوں میں حیرت اور سوال رہ گیا لالہ یہ کیا کیا؟ مصباح کے موبائل کے ڈیٹا رپورٹ کے مطابق صرف کالز اور میسج اس کے نمبر پر آئے تھے جبکہ رپلائی کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ساجد نے غیرت کے نام پر قتل کیا تھا جب اسنے رپورٹ دیکھی تو بہن کو بے قصور پایا دو دن بعد اس نے بھی جیل میں خود کشی کر لی پولیس نے اس کال کرنے والے کو بھی گرفتار کر لیا۔مصباح جیسی نجانے کتنی لڑکیاں غیرت کے نام پر قتل ہوتی رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔

51 total views, 3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/ya6xqfr7
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *