ایک کرن تھی امید کی

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ملک ارشد جعفری 
میرے وطن کے غیور لوگو 70 سالوں سے میرے پیارے ملک کو ہر طرح سے لوٹا جارہا تھا ہر ملکی ادارہ مفلوج ہوکر رہ گیا تھا ہر 5سال بعد مختلف نعرے اور ترانے سن سن کر کان پک گئے دنیا میں ہر آنے والا بچہ جب ماں کے شکم سے باہر آتا اذان و اقامت کے بعد اس کو یہ بھی بتایا جاتا منے ہوش کرنا ملکی قرضہ بھی تم ہے اس دفعہ پڑھے لکھے جوانوں اور گھریلو لوگوں نے امید کی کرن سمجھ کر عمران خان کو ووٹ دیا کہ ملک یقیناًآگے بڑھے گا اور جو اس کا نعرہ ہے اس پر عمل بھی ہوگا لیکن بدقسمتی سے اس کے برعکس ہورہا ہے عمران کو میں جانتا ہوں کہ اس کے قریب سے بھی کرپشن نہ گزری ہے اور نہ گزرے گی لیکن چند ساتھی ایسے مل گئے جنہوں نے پہلے مہینوں میں ریکارڈ توڑ دیے ہر صوبہ میں ، میں جاتا ہوں اور پنجاب کے کئی اضلاع میں ان ایام میں چکر لگایا لوگوں کے تاثرات سنے اور نوٹ کیا ان کو موقع پر جواب بھی دیا لیکن کئی مطمئن ہوئے اور کئی نے کرپشن کی نشاندہی کی پھر اپنے ضلع اٹک میں آکر لوگوں سے ان کے تاثرات سنے اور کئی جگہ جاکر خود دیکھا وہ حقیقت پر مبنی تھا اس میں شک نہیں کہ وزیراعظم کو جو مشکلات ورثہ میں ملیں بہت مشکلات ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ووٹ دینے والوں کو لوٹا جائے یہاں تقریباًہر ادارہ میں PPIکی مداخلت ہے سوئی گیس میں دو ٹاؤٹ بٹھا رکھے ہیں جو غریبوں کو لوٹ رہے ہیں رجسٹری برانچ فرد نکلوانے جاوں تب ایماندار افسر کو ٹھہرنے کوئی نہیں دیتا ایک AC آیا۔ جس نے ضلع اٹک کے کام کرنا شروع کیا تو ا س کو RT سیکرٹری بنا دیا گیا جب اس نے بھتہ دینے سے انکار کیا تو اس کو تبدیل کروا دیا اس طرح ہر جگہ من پسند لوگ اپنے حلقوں میں تعینات کیے جارہے ہیں پٹواریوں سے لے کر اوپر تک بولی لگی ہوئی ہے کسی غریب کا جائز کام نہٰں ہوتا بغیر پیسے کے میرے ایک پرانے دوست اور صحافی جس نے میرے کہنے پر PTI کو سپورٹ کیا اور اپنے محلہ میں جلسہ کرایا وہ جب ملنے گیا تو ایم پی اے صاحب اس طرح پیش آئے جس طرح جانتے ہی نہ ہوں باقی بھی اپنے حلقے کے لوگ ان سے نالاں ہیں نوجوان بیروزگاری سے تنگ ہیں ایسے سندیں ہاتھوں میں اٹھا کر سارا سار دن مختلف دفتروں کے چکر لگاتے ہیں سابقہ حکومت سے محکمہ ہیلتھ اسفندیار ہسپتال میں جہاں صرف ایک ہیڈ کلرک اور کلرک نے کام سنبھال رکھا تھا صرف 25ہزار تنخواہ پر اس پر کمپنی کے بھیجے ہوئے کئی لوگ جو 60ہزار سے اوپر تنخواہ لیتے ہیں بٹھائے ہوئے ہیں جو ملکی خزانہ پر بوجھ ہیں ان کو فارغ کرکے پرانا نظام بحال کیا جائے تاکہ خزانہ پر جو بوجھ پچھلے حکمران ڈال کر گئے وہ ختم ہوسکے مشرف دور میں مانیٹرنگ کا نظام جو رائج کیا گیا یہ بھی اضافی بوجھ ہے یہ کام پہلے ہر محکمہ کا ایک چھوٹا سا کلرک کرتا تھا لیکن آج کروڑوں کا بوجھ سابقہ فوجی بھرتی کر کے یہ نظام چلایا جارہا ہے رشوت پہلے سے زیادہ ہے محکمہ ہیلتھ میں 16کروڑ کی ادویات کا بجٹ منظور ہوا کون 16 لاکھ روپے رشوت مانگ رہا ہے اس دفعہ یہ کام ہم نہیں ہونے دیں گے جو غریب لوگوں کی صحت کے لیے پیسہ آئے گا ان پر ہی لگے گا اس کی مانیٹرنگ کی جارہی باقی بھی ثبوت اکٹھے کیے جارہے ہیں جو عمران خان اور ذلفی بخاری کو ہم تحریری پیش کریں گے لوگ یقین کرتے تھے کہ کرپشن نہیں ہوگی لیکن اس کو روکنا مشکل کام ہے سابقہ چیف جسٹس صاحب نے کہا تھا کہ ادارے مفلوج ہیں اس میں شک نہیں اگر یہی حال رہا تو اس حکومت کا بھی پیپلز پارٹی سے برا حال ہوگا پیپلز پارٹی کے ایم پی اے جس کو حلقہ کی عوام نے بھاری اکثریت سے جتوایا تھا ن کے اخلاق اور بے حسی کی وجہ سے عوام نے اس طرح رد کیا جس کی مثال نہیں ملتی صرف 2ہزار ووٹ ملے ان کو یہ اس لیے کہ انہوں نے بھی اپنے محدود اور وفادار ساتھیوں کو چھوڑ کر ٹاؤٹوں کا سہارا لیا اور الیکشن میں تنہا ہوگئے اگر بلدیاتی الیکشن جلد آگئے تو خان صاحب آپ دیکھ لینا لوگ اس حلقہ میں کیا کرتے ہیں۔
جب انصاف کے دروازے مخلص دستوں اور ساتھیوں کے حکمران بند کردیتے ہیں تو ایک ایسا دروازہ کھلتا ہے جس کو اللہ کا قانون کہتے ہیں جب وہ حرکت میں آتا ہے تو اشرافیہ کے سروں کے مینار کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسا طوفان آتا ہے جو اپنے ساتھ سب کچھ اڑا کر لے جاتا ہے جس کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی علاقے کے ٹھیکیداروں اور ٹاؤٹوں سے الیکشن نہیں جیتے جاتے مخلص دوستوں سے الیکشن جیتے جاتے لوگ چاہتے تھے کہ ہم عمران خان کا ساتھ دیں تاکہ ملک کچھ سرسبز ہوجائے لیکن ان کے چند ساتھی ان کے لیے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں جو صرف بدنام زمانہ ٹھیکیداروں کے ساتھ اور ٹاؤٹوں کے ساتھ مختلف اداروں میں فوٹو سیشن کروا رہے ہیں حکومتی عہدیداروں کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے حلقہ میں بھرتیاں کرواتے اپنے ساتھیوں کو روزگار دلواتے انہوں نے تو پہلے دن سے لٹو لٹو جلدی کرو کی بنیاد رکھ دی نوجوان منشیات ، جوا، چوری نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے پیسے دے کر اگر عوام نے کام کروانے ہیں تو اس سے پہلے ہر کام بغیر سفارش کے ہوجاتا تھا ان کی کیا ضرورت ہے غریب کی دعا لیں بددعا نہیں بد دعا جب عرش سے ٹکرائی تو بہت بڑی تباہی آئے گی پھر ایک دوسرے پہ الزام نہ لگانا یہ کیا ہوا ہم تو کام کرنا چاہتے تھے ہمارا راستہ روکا گیا اہل اقتدار لوگوں نے عمران خان کو آخری امید کی کرن سمجھ کر ووٹ دیا تھا۔ 

156 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y4gjc9ra
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *