ایڈیٹوریل ایڈیٹر روز نامہ انصاف کے نا م کھلا خط

Print Friendly, PDF & Email

مکرمی و محترمی !اسلام علیکم !
زندگی میں بہت سے مزا حیہ پرو گرا م دیکھنے اور سننے کا اتفاق ہو ا ہے سٹو ڈ نٹ لا ئف میں مزا حیہ خا کو ں میں حصہ بھی لیا اور دیکھے بھی ہیں ۔کا میڈ ین سے بھر پو ر اسٹیج ڈرامے بھی دیکھے مگر آج تک اتنی ہنسی نہیں آ ئی جتنی آ پ کا یہ مختصرسا اشتہا ر د یکھ کر آ ئی ہے جس میں آ پ نے لکھا ہے کہ ’’ہم نئے لکھاریوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔اپنے مضامین ارسال کریں ہم خوش دلی سے شائع کریں گے‘‘جس دن سے یہ اشتہا ردیکھا ہے ہنسی رکنے کا نا م ہی نہیں لے رہی کہ کس طر ح ما لکان ، عو ام ، ریڈ رز اور را ئٹرز کو بے وقوف بنا یا جا رہا ہے ۔ جنا ب انچا رج صا حب !آ پ اور را ئٹر زکی حو صلہ افز ائی؟؟؟دو متضا د چیزیں ہیں آ پ خو شا مد پسند ہیں جو آ پ کی خو شا مد کرے جی حضوری کر ے، آ پ کی تعر یف کرے، آ پ کوما تھا ٹیکے، آپ کو دنیا کا عظیم تر ین انسا ن قرار دے وہ ۔۔۔۔۔۔ جی ہا ں وہ۔۔۔۔۔۔صر ف وہ ہی انصاف کے صفحا ت پر جگہ پا نے کا حقدا رہے ۔با قی سب آپ کی نظر میں للوپنجو ہیں چند خو شا مدیوں ،جی حضو ریو ں،سفار شیوں اور جما عتیوں نے آ پ کا ذ ہن مفلوج کر رکھا ہے ۔اور آپ سو چنے سمجھنے کی صلا حیت سے محروم ہو چکے ہیں آپ معیار نہیں،مواد نہیں،حقائق نہیں،شرائط نہیں،موقع محل کی منا سبت نہیں صرف خو شامد کو مد نظر رکھتے ہوئے نام دیکھتے ہیں اور ویسے بھی خو شا مد وہ بیماری ہے جس کو لگ جا ئے وہ اپنے ہو ش و حوا س کھو بیٹھتا ہے اور آپ بھی اپنے ہو ش و حو اس کھو بیٹھے ہیں عقل و شعور کی نعمت سے آ زا د ہو چکے ہیں دما غ میں مغز نا م کی شے خو شا مدیوں کے ہا تھوں گروی رکھ چکے ہیں رہی آ نکھیں! تو ان پر خو شا مد کی پٹی بندی ہو ئی ہے جس کی وجہ سے آپ کو کچھ دکھا ئی نہیں دیتا اور چھ چھ دن پر انے آرٹیکلز بڑے فخر سے شا ئع کر رہے ہو تے ہیں حا لا نکہ کہ وہی آر ٹیکل دو سرے اخبا را ت میں شا ئع ہو نے کے بعد اپنی اہمیت کھو چکے ہو تے ہیں محترم انچا رج صا حب!میں ہو امیں تیر نہیں چلا رہی ہوں اور نہ ہی بغض معاویہ کے تحت الزا م تراشی کر رہی ہوں میرے پا س ایک ایک با ت کا ثبوت ہے گھسے پٹے روا یتی کا لم بھی مو جو د ہیں اور تا ریخوں کا ریکار ڈ بھی کہ کون سا مضمون کب کس اخبا ر میں کتنے دن پہلے شا ئع ہو اہے مجھے یہ سب کچھ اس لیے معلوم ہے کہ کہ میں بھی آ ر ٹیکل لکھنے کی کو شش کر تی ہو ںآ پ کو ارسال بھی کر تی رہی ہو ں مگر آپ اس کو ردی کی ٹوکر ی جس کا جدید نا م ڈیلیٹ کا بٹن ہے کی نذ ر کر دیتے تھے روز نامہ انصاف کے جی ایم محترم آ صف نعیم صاحب سے شر ا ئط و راہنما ئی معلو م کی گئی تو پتہ چلا کہ آرٹیکل ایک دن پہلے ارسال کیا جا ئے اور کسی دو سرے پیپر میں شا ئع نہ ہو ا ہو میں نے اس پر عمل درآ مد کر تے ہو ایک ایک ہفتہ پہلے آ ر ٹیکل ارسال کر نا شر وع کر دیا مگر پھر بھی میرا نام آپ کوایک آنکھ نہیں بھا یا کیو نکہ میں خو شا مدی ٹو لے میں شا مل نہیں ہوں محتر م انچا رج صا حب !میرا ایما ن ہے کہ عز ت و ذ لت صر ف خد ائے بز ر گ و بر تر کے ہا تھ میں ہے وہی عز ت دینے اور وا پس لینے پر قا در ہے لہذا میں اقبا ل کے اس شعر پر عمل پیرا ہو ں

خو دی کو کر بلند اتنا کہ ہرتقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پو چھے بتا تیری رضا کیا ہے

چو نکہ آپ میرے سب آ ر ٹیکل ڈیلیٹ کی نذ ر کر دیتے تھے لہذا میں نے آ ر ٹیکل ار سا ل کر نا ہی چھو ڑ دیا ہے مگر میں آپ کو ایک چیلنج کر تی ہوں کہ سو شل میڈ یا پر، فیس بک پر اپنے منظورِ نظر چہیتوں ، خو شا مدیوں،جی حضوریوں ،جما عتیوں اورسفا رشیوں کے آ ر ٹیکل پر عو ام کے لا ئک اور کمنٹ دیکھ لیں مگر سوا ل یہ ہے آپ دیکھیں گے کیسے ؟؟؟اللہ نے آپ سے حق و صدا قت دیکھنے والی بینائی ہی چھین ر کھی ہے آپ حق و صد قت کو دیکھ کیسے پا ئیں گے ؟؟آپ کے منظور نظر را ئٹر جو میرے پیدا ہو نے سے پہلے کے لکھ رہے ہیں ان کو چھ سات لائک ملتے ہیں جبکہ میرا کو ئی آ ر ٹیکل ایسا نہیں ہے جس کو 100سے کم لا ئک نہ ملیں اور درجنوں تعر یفی کمنٹس نہ ملے ہوں خدا دادصلاحیتیں اللہ تعا لی کی عطا کر دہ عظیم نعمت ہے ربِ کا ئنا ت جسے چا ہے جس عمر میں چا ہے عطا کرے اس کا عمر سے کو ئی تعلق نہیں ہے محتر م انچا رج صا حب !پا کستا ن کے پچا س سے زا ئد نیو ز پیپرزجس میں نوا ئے وقت ،جنا ح ،پاکستان،اوصاف،سحر، سماء سمیت کے پی کے اور کر اچی کے مشہور نیوز پیپرزبھی شامل ہیں میں میرے آر ٹیکلزنما ئیا ں جگہ شا ئع ہو رہے ہیں بیر ونِ ملک انڈیا کے نیوز پیپرز میں بھی میرے آ رٹیکل چھپ رہے ہیں اب تو سندھی نیوز پیپرز سندھی زبان میں ترجمعہ کر کے میرے آرٹیکلز چھاپ رہے ہیں ایک انصاف جس کی کو ئی قا بل ذ کر اشا عت بھی نہیں ہے میں آر ٹیکل نہ چھپنے سے مجھے کو ئی فر ق نہیں پڑ تا مگر آپ کی نا انصا فیوں کو ریکارڈ پر لا نا ضروری ہے آپ کی اعلی ظر فیوں کو بیان کر کے آپ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ جس طرح آپ دوسروں کو ما یوسی کے اندھیرے میں دھکیل کر اپنے چمچوں ،کڑچھوں،سفا رشیوں، خو شا مدیوں، جما عتیوں اور جی حضوری کر نے وا لو ں پر نو از شا ت کی با ر ش کر تے ہیں وہ میر ٹ کے قتل عا م کے متر ادف ہے ۔محترم انچا رج صاحب اللہ کی لا ٹھی بے آ واز ہے کہیں آپ کی اپنی اولاد،اپنی بیٹی اس بے آواز لاٹھی کی زد میں نہ آ جا ئے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی اپنی بیٹی کے سا تھ ایسا ہو؟؟؟ا سکی قا بلیت پر بھی کو ئی پا نی پھیرے کو ئی آپ جیسا خو شا مد پسند اس کو بھی ما یو سی کے اندھیروں کی نذر کر تے ہو ئے سفا ر شیو ں کو تر جیحی دے اور وہ بھی اسی طرح پر یشا نی، دکھ اور تکلیف سے دو چا رہو جس طرح آپ اپنے چمچوں، کڑ چھوں، خو شا مدیوں، سفار شیوں،جما عتیوں،نا اہل افراداور جی حضوری کر نے والوں کی خا طردوسروں کے جذ بات و احساسات سے کھیلتے ہیں اگر کل کلا ں قا نونِ قدرت کے تحت یہ سب کچھ آپ کی بیٹی کے ساتھ ہو تو غو ر کیجیے پھر آپ کے دل پر کیا گزرے گی ؟؟؟آپ کی بیٹی کے چہرے پر ما یو سی چھا گئی تو آپ کی دلی کیفیت کیا ہو گی ؟؟؟اگر یہ کرسی جس پر بیٹھ کر آپ فر عو نیت کا روپ دھا رچکے ہیں چھن کر ریزہ ریزہ ہو جا ئے بالکل اسی طرح جس طرح آپ دو سروں کے خو اب ریزہ ریزہ کر تے ہیں تو آپ کے دل پر کیا بیتے گی؟؟؟اور پھر پر یشا نی کے عا لم میں ڈو بے اور لڑ کھڑاتے پا ؤں کے سا تھ دفا تر کے چکر لگا تے ہو ئے نو کر ی کی تلا ش کر نا کیسا لگے گا؟؟؟ محترم انچا رج صاحب خدا ئی دعوے دار فر عون کا آج کو ئی نا م لیوا نہیں ہے مگر مو سیٰ ؑ پر ایما ن نہ لا نے وا لا دا ئرہ اسلام سے خا رج تصور ہو تا ہے یزید کا کو ئی نا م سننا پسند نہیں کر تا مگر جذبہ حسینؓ ہر لمحہ ز ندہ و پا ئندہ رہتا ہے میری آپ سے التما س ہے کہ یہ فر عو نیت ،یہ نمر ودیت اور یہ یذ یدیت چھوڑ دیں قبل اس کے کہ آپ اللہ کی بے آوا زلا ٹھی کی پکڑ میں آ جا ئیں انصاف و عدل کا تر ازو تھام لیں جو انصا ف کی پیشا نی پر مذ اق بن کے رہ گیا ہے ور نہ آپ جیسے کتنے فر عو ن، نمروداور ہٹلر آئے مگر اللہ تعا لی کی بے آ وا ز لاٹھی کی نذر ہو کر مٹی مٹی ہو گئے زندہ و پا ئندہ وہی رہے گا جو انصا ف کا دا من تھا مے گا۔

(ازقلم: سفینہ نعیم، قصور)

1,453 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/hsm3bdn
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *