ایسا بھی ہوتا ہے

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: اظہر اقبال مغل، لاہور 
یہ واقع 2005 کا ہے میں نے نیا نیا موبائل لیا اور میں ہر وقت موبائل پر ہی مصروف رہتا تھا ایک دن مجھے ایک رونگ کا ل آئی میں نے کال رسیو کر کے پوچھا جی کون تو ایک بھاری سی آواز آئی کہ میں نے انیلا سے بات کرنی ہے میں نے کہا بھائی رونگ نمبر ہے یہ میرا نمبر ہے لیکن اس کو کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ مسلسل کال کر رہا تھا اوراس کے بار بار کال کرنے سے میں بہت تنگ ہو رہا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس بندے کا کیا کروں۔میرے دماغ میں ایک شرارت آئی ۔جب دوبارہ اس کی کال آئی تو میں نے اپنی آواز بدل کر لڑکی کی آواز میں کہا کہ کون اس کا وہی سوال تھا انیلا سے بات کرنی ہے میں نے کہا میں ہی ہوں انیلا بتاؤ کیا کام ہے کہنے لگا میرا نام کامران ہیں میں سندھ میں کام کرتا ہوں پنجاب میں رہتا ہوں میرا اس دینا میں کوئی نہیں بہت ہی پریشان ہوں اگر آپ مجھ سے دوستی کر لو تو میں آپ کا بہت احسان مند رہوں گا میں نے اس کی ساری باتیں سنی اور رونگ نمبر کہہ کے بند کر دیا کیوں کہ میں میں نہیں چاہتا تھا کہ اس سے بات کروں کیوں کہ میرے پاس اتنا ٹائم ہی نہیں تھا لیکن وہ مسلسل تنگ کر رہا تھا میں نے موبائل بند کر دیا 
اس وقت موبائل نیا نیا آیا تھا اس لیئے اس میں بلاک کرنے کی آپشن نہیں تھی جب موبائل آن کیا تو اس کے بہت سار یمیسج آئے ہوئے تھے مجھے اس پر غصہ آیا اور میں اس کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا میں سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی کا ل آ گئی میں نے بات کی تو اس نے کہا آپ نے دوستی کے بارے میں کیا سوچا میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن رات کو 10 بجے کے بعد کال کر لیا کرو اس سے پہلے میں بات نہیں کر سکتا جب رات کے 10 بجے تو اس کی کا ل آ گئی بات چیت ہوئی اس نے میرے بارے میں پوچھا تو میں جھوٹ سی کہانی اس کو سنا دی اسی طرح اس سے ہر روز بات ہوتی اس نے مجھے پرپوز کر دیا میں نے کہا سوچ کر بتاوں گی اب میں بہت پریشان ہو گیا کہ اب کیا کروں خیر میں نے جھوٹی موٹی قبول کر لیا اسی طرح یہ کہانی چل رہی تھی میں سوچ رہا تھا کہ اس کہانی کو کیسے ختم کروں ادھر سے وہ ہر روز مجھے شادی کا کہتا کہ وہ اپنے گھر والوں کو میرے گھر بھیجے میں کوئی کہانی سنا دیتا میں کچھ پھنس سا گیا تھا کئی بار میرا دل چاہتا کہ اسے اصل حقیت بتا دوں لیکن ہمت نہیں پڑتی تھی میں بہت پریشان سا رہنے لگا تھا اس مصیبت سے کیسے جان چھڑاؤں میری نیند پوری نہیں ہوتی تھی ایک رات اس کا فون آیا کہ میں سوچ کر بتاؤں شادی کروں گی کہ نہیں اب میں اور بھی پریشان تھا کیوں میں خود کو مجرم سمجھنے لگا تھا کہ میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہیکسی کے جذبات سے کھیلنا بہت بری بات ہے اُدھر اس کے فون آتے میں نے فیصلہ کیا میں اس کو سب کچھ بتا دوں گا اب میں اس سے زیادہ بات بھی نہیں کرتا تھا ایک رات اس کی کال آئی کہ میں اپنے گاؤں آ رہا ہوں اور ادھر سے لاہور آوں گا آپ ملنا میں آپ کو دیکھ بھی لوں گا اور پھر میں اپنے گھر والوں کو بھیجوں گا اور شادی کر لیں گے میں سنی ان سنی کر دی اب میں اس کی کال بھی رسیو نہیں کرتا تھا ایک دن اسکی کال آئی میں کل لاہور آرہا ہوں مجھے بتاؤ کہاں ملو گی میں کہا ملنا مشکل ہے وہ مجھے دھمکیاں دینے لگا میں زہر کھا لوں گا یہ کر لوں گا وہ کر لوں خیر مجھ پر اس کی دھمکیوں کا کیا اثر ہوتا میں نے جا ن چھڑانے کے لئیے پارک کا ٹائم دے دیا اگلے دن اس کی بہت کالز آئی میں پارک میں ہوں میں نے ویسے ہی کہا میں آ رہی ہوں وہ شام تک بیٹھا رہا میں نہیں گیا شام کو اس نے کراچی کی گاڑی میں بیٹھنا تھا وہ مایوس ہو کر واپس چلا گیا رات کو اس کی کال آئی کہ میں نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے کوئی جواب دئیے بغیر کال کاٹ دی میں رات بھر پریشان رہا بہت مشکل سے کہیں میری آنکھ لگی میں صبح اُٹھ کر کام پر بھی نہیں گیا میرا ضمیر ملامت کر رہا تھا میں بہت پریشان تھا کہ مجھے اس بندے کے ساتھ اس طرح نہیں کرنا چاہئیے تھا میں گہری سوچ میں تھا کہ اگلے دن 12 بجے کے قریب ایک کال آئی میں نے سنی تو ایک نسوانی آواز آئی میں نے پوچھا کون تو وہ بولی جس کا یہ فون ہے میں نے اس سے بات کرنی ہے میں نے کہا میرا ہی فون ہے وہ پھوٹ کر رونے لگی اور کہنے لگی میری زندگی کا سوال ہے پلیز بھائی میری اس سے بات کرا دو جس کا یہ موبائل ہے میں پہلے ہی پریشان تھا مزید پریشان ہو گیا میں نے پوچھا جی آپ بتاو تو بات کیا ہے وہ کہنے لگی میں اس کو ہی بتاو ں گی آپ اس لڑکی سے بات کرا دو جس کا یہ فون ہے میں نے کہا میں گھر جا کر آپ کی بات کراتا ہوں جب دوبارہ اس کی کال آئی تو میں نے لڑکی آواز میں بات کی تو وہ پوچھنے لگی کہ آپ کا کامران سے کیا رشتہ ہے جب میں نے کہا کہ آپ کو اس سے کیا جو بھی رشتہ ہے تو وہ بہت زیادہ پھوٹ کر رونے لگی وہ روئے جا رہی تھی اور کہے جا رہی تھی کہ پلیز میری زندگی مت برباد کرو میں آپ کے ہاتھ جوڑتی ہوں میں نے پوچھا کہ میں آپ کو کیا ایسا کہا ہے جو آپ مجھے اس طرح کہہ رہی ہو تو اس نے بتایا کہ کامران اس کا شوہر ہے اور اس بار جب وہ گھر آیا تو مجھے دھمکی دے کر آیا کہ میں لاہور میں شادی کر رہا ہوں مجھے ایک خوبصورت سلجھی لڑکی مل گئی ہے تم نے میرے ساتھ رہنا ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو باپ کے گھر چلی جاؤ میں طلاق بھیج دوں گا میں سنا تو میری پریشانی دور ہو گئی میں اس کو حوصلہ دیا کہ میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں جب وہ چپ ہو گئی تو میں نے اس کو کچھ دیر بعد کال کی اور ساری حقیقت سےآگاہ کر دیا اور اپنی اصل آواز میں اس سے بات کی جب اس کو حقیقت کا علم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئی مجھے کہنے لگی آپ نے اس کے ساتھ بالکل ٹھیک کیا وہ گاؤں کی کئی لڑکیوں پر دورے ڈالنے کے چکر میں کئی با رذلیل ہو چکا ہے اب میں دلی طور پر بہت مطمئن تھا کہ میں کوئی غلط کام نہیں کیا بلکہ ایک بھٹکے ہوئے کو سیدھی راہ دکھائی ہے میں اس لڑکی کے میاں کو بھی کال کر کے بتا دیا جو اس کے ساتھ ہوا تھا وہ 5 بچوں کا باپ تھا کافی عرصہ کے بعد مجھے اس کی بیوی کی دوبارہ کال آئی کے بھائی آپ کا بہت شکریہ اس واقعہ کے بعد غلام مصطفٰے انسان بن گیا ہے اس نے مجھے اپنے پاس بلا لیا ہے میں اب بہت خوش ہوں اس کے بعد میں نے نمبر بدل لیا نہ اس کی کبھی کال آئی نہ ہی میں کال کی مجھے نہیں پتہ میں نے ٹھیک کیا یا غلط لیکن جو اللہ کی طرف سے ہوا ٹھیک ہی ہوا ہر انسان ٹھوکر کھا کر ہی سنبھلتا ہے 
اظہر اقبال مغل لاہور 

294 total views, 6 views today

Short URL: //tinyurl.com/y7kqp247
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *