امریکی ناکامیاں اور ٹرمپ کی بوکھلاہٹ

Print Friendly, PDF & Email

تحریر : راؤ عمران سلیمان 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں پر کچھ کہنے سے قبل میں اپنے پڑھنے والوں کو ایک مختصر سا واقعہ سنانا چاہونگا 1965کی جنگ سے قبل امریکا پاکستان کے بہت قریبی اتحادی کے طور پر جانا جاتاتھا بھارت اس وقت سویت یونین کے کیمپ میں موجود تھا اس جنگ میں بھارت کی عسکری قوت پاکستان سے کہیں زیادہ تھی جنگ کا ماحول بنا ہواتھا ایک اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کو امریکا سے خصوصی امداد کی توقع تھی مگر ہوا یوں کہ امریکا نے پاکستان کو خصوصی امداد دینے کی بجائے الٹا عین موقع پر اسلحے اور ہتھیاروں کی سپلائی کو ہی بندکردیا،یہ معاملہ دشمن کو مظبوط کرنے اور پاکستان کو شکست سے دوچار کرنے کی ایک بھرپور کوشش تھی مگر اس وقت بھی امریکا کی جانب سے اس حرکت کو کوئی اہمیت نہ دی گئی ،مشرف دور میں اربوں ڈالر کا فنڈ بھی اسی لیے دیا گیا کہ پاکستان امریکی افواج کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے دے اور قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کی اجازت بھی دے جبکہ اس سے قبل جنرل ضیاالحق کے دورمیں بھی امریکا نے پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ پاکستان ہر صورت ان ڈالروں کی لالچ میں سویت یونین کا مقابلہ کرے اور افغانستان میں موجود سویت یونین کو نکال باہر کرے آج بھی معاملہ امریکا کا افغانستان میں ان ہی پے درپے ہونے والی شکستوں کا شاخسانہ ہے جس کی برداشت اب امریکا کے لیے اب ناقابل برادشت حدود میں داخل ہوچکی ہیں امریکاپوری دنیا کے سامنے ایک مفاد پرست ملک کے طورپر جاناجانے لگاہے ،اور آج بھی امریکا کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات لگانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد کافی زیادہ ہوگئی ہے جنھیں امریکی حکام کی جانب سے ان باتوں کو اپنے ملک کی عوام کے سامنے پیش کرنااب اس قدرآسان کام نہیں رہاہے دوسری جانب امریکا کو اب اس بات کا بھی احساس ہوگیاہے کہ وہ اب افغانستان سے سرخرو ہوکر کبھی نہیں نکل سکے گا اس لیے اس نے پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کیا ہواہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے الزامات لگانے میں پاکستان پر خصوصی توجہ اس لیے ہے کہ پاکستان ان باتوں کو دباؤ سمجھتے ہوئے امریکا سے اپنے تعاون کو جاری رکھے اور اس طرح افغانستان میں ہونے والی ناکامیوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال دیا جائے جو کہ ایک غیر حقیقت پسندانہ طریقہ کار ہے ، اس کے علاوہ تعلقات کی خرابی کی ایک اور وجہ ٹرمپ کا اپنا مزاج بھی ہے اور وہ جارحانہ مزاج اور غیر سفارتی انداز میں پاکستان کا تزکرہ کرتے رہتے ہیں تاکہ ان کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے فروغ میں الزامات کا سلسلہ تازہ دم رہے کیونکہ ان کے نزدیک افغانستان کی جنگ جیتنا مشکل ضرور ہے مگر اس کے مقابلے میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگانا ان کے لیے ایک آسان کام بن چکاہے لہذا اس پر یوں کہا جاسکتاہے کہ پاکستان کے خلاف ٹرمپ کی جو ڈپلومیسی اور غیر سیاسی گفتگو ہے وہ غیر جمہوری اور غیر اصولی ہے۔ ٹرمپ کے شور مچانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ امریکا میں اپنے حمایتیوں کو یہ بتانا چاہتاہے کہ عالمی سطح پر امریکا کا کردار آج بھی اتنا ہی موثر ہے جتنا کہ ماضی میں تھا،ان ساری باتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ امریکا کے زوال کے نظریئے کو رد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں بس کوشش یہ ہے کہ ایٹمی گولہ باری کی ناکامی کے بعد اب لفظی گولہ باری سے ہی عالمی سیاست میں اپنا مقام اور دہشت کے وجود کوقائم رکھا جائے ۔ یہ تو تھی امریکی الزام تراشیوں کی وجوہات مگر اس کے ساتھ پاکستان کی بھی بے شمار کمزوریاں اور کوتہاں پالیسیاں ہیں جنھیں محب وطن بن کر چھپانے کی بجائے سچائی کا سامنا کرنا زیادہ ملکی مفاد میں ہوسکتاہے وہ یہ کہ ایک طویل عرصے سے یعنی ماضی کی حکومتوں میں بھی دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو بہت محدود انداز میں پاکستان کی قربانیوں کا زکر عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا ہے، امریکی چالاکیوں سے جو کچھ پہلے ہوا سے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگرپاکستان نے ستمبر2001سے لیکر اب تک جس انداز میں جانی و مالی قربانیاں دی ہیں اسے تو کسی بھی لحاظ سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،ان قربانیوں کو ہمارے حکمرانوں کی جانب سے بہت کم انداز میں دنیا کو دکھایا گیاہے جو کہ بہت زیادہ ہیں اور سب سے پہلے تو پاکستان کو عالمی میڈیا کے سامنے امریکی صدر کے اس بیان کو چیلنج کرنا چاہیے جس میں وہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان نے امریکا کے لیے کچھ نہیں کیا،اور ہم پاکستان کوسالانہ 3.1ارب ڈالر دیتے رہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا جس پر ہم نے یہ امداد اب بند کردی ہے،اور یہ کہ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پاکستانی حکام کو معلوم تھا،یعنی پاکستان نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی ؟۔ ان الزامات کا پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا جس پر انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اس جنگ میں 123ارب ڈالر کا نقصان ہوا جب کہ امریکا نے صرف 20ارب ڈالر امداد دی پاکستان کے حکمرانوں کا یہ جواب نہایت ہی دلکش رہا جس میں انہوں نے کہاکہ ہم نے امریکی جنگ لڑکر کافی نقصان کرلیاہے ہمارے 75 ہزار لوگ دہشت گردی کی اس جنگ میں اپنی جانوں سے چلے گئے اور یہ کہ امریکا خود معلوم کرے کہ ایک لاکھ چالیس ہزار نیٹو افواج کے باوجود افغان جنگ کیوں نہ جیتی جاسکی ہے ۔ گو کہ پاکستانی حکام کی جانب سے یہ جواب امریکا کی منشاء کے مطابق دیا جاچکاہے مگر اس پر اب خاموشی نہیں رکھنی چاہیے بلکہ امریکی صدر کے لب ولہجے کے مطابق سلسلے کو جاری رکھنا چاہیے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستانیوں کی ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ معاشی نقصانات کے ساتھ پاکستان کا جانی نقصان بھی امریکا کے جانی نقصان سے کہیں زیادہ ہے اس لیے امریکا کا ڈور مور کا مطالبہ غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل عمل ہے ،اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے ماضی میں کی جانے والی جن کمزوریوں اور کوتاہیوں کا زکر کیا جارہاہے اس میں یہ بات کسی اچھنبھے سے کم نہیں ہے کہ گزشتہ مسلم لیگ ن کا دور ایسا گزرا ہے جس میں اس ملک کی وزرات خارجہ کا کوئی وارث نہ تھا جس سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے موقف کو پیش کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا فارن آفس پاکستان کا نقطہ نظر کمزور دیکھتے ہوئے امریکی صدر نے یہ سلسلہ شروع کردیا تھا یعنی یوکہنا ہوگا کہ ٹرمپ کا یہ بیان کوئی نئی بات نہیں ہے،امریکا اور پاکستان کی دوستی کے تمام معاملات ہمیشہ سے ہی امریکی مفاد کے ارد گرد گھومتے رہے ہیں اور امریکا ہمیشہ سے ہی اپنے جارحانہ رویوں سے پاکستان سے اپنے مفادات حاصل کرتارہاہے ،اور امریکا نے ہر بار پاکستان سے بے وفائی کی اور بدلے میں پاکستان کی قربانیوں کا سلسلہ چلتا رہا ہے مگراب امریکا کے ساتھ چند ڈالروں کی عوض اپنے عسکری جوانوں کی قربانیاں مزید نہیں دی جاسکتی ، ایک ادنیٰ سا لکھاری ہونے کی حیثیت سے اپنے ملک کے حکام بالا کو یہ کہنا چاہونگاکہ یورپی ممالک کو پاکستان میں زیادہ دلچسپی ہے لہذا پاکستان کو بین الالقوامی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے نقطہ نظر کو موثر انداز میں پیش کرتے رہناچاہیے ۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔

168 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/yafqsb2v
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *