الحاق پاکستان۔۔کشمیریوں کا جنون

Print Friendly, PDF & Email

تحریر:ارسلان رفیق
مقبوضہ کشمیر ۔۔بھارت کا اٹوٹ انگ ہرگز نہیں بلکہ تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت کشمیری عوام کو حق خوداردیت حاصل ہے جب کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ان کا یہ بنیادی حق واضح الفاظ میں دیا گیا ہے لیکن بھارتی حکمران روز اول سے ہی کشمیریوں کے ان بنیادی حقوق سے انکاری ہیں۔ پانچ فروری کو دنیا بھر میں یہ پیغام جاتا ہے کہ کشمیر اور پاکستان یک جان ہیں اور ان کو کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی ۔پرویز مشرف نے امریکہ کے کہنے پر ایسے اقدامات اٹھائے کہ جن کی وجہ سے آزادی کشمیر اور کشمیری مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لیے پاکستان کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو یک زبان ہو کر بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی۔ شہداء کشمیر کا خون رنگ لائے گا اور کشمیر کی زمین کشمیریوں کیلئے ایک پرامن اور باہمی چین و سکون کی جگہ میں تبدیل ہو جائے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی افواج کشمیریوں کا خون بہا رہی ہے لیکن مقام صد افسوس ہے کہ اقوم متحدہ، او آئی سی اور پاکستانی حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ یہ ایک تا ریخی حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کا مقد مہ جواہر لال نہرو خود اقوام متحدہ میں لے کر گئے ۔یو این نے کشمیر یوں کو حق خودارادیت دینے کی قر ارداد منظو ر کی ۔ کشمیر ی ستر سا ل سے یہ حق حا صل کر نے کے لئے بے مثا ل قر با نیاں دے رہے ہیں۔ لا کھوں شہدا ء کی قبر یں اس جد و جہد کی گو اہ ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں عوام پر بھارتی درندہ صفت فوجی کئی دہائیوں سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے نت نئے طریقے آزمائے جارہے ہیں۔ بھارتی فوجیوں اور سکیورٹی فورسز نے لاکھوں مرد، خواتین اور بچے بوڑھے شہید، معذور اور غائب کردئیے ہیں۔ لاکھوں خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزاروں افراد پابند سلاسل ہیں۔ نہ تو ہندوستانیوں کے مظالم میں کمی آئی اور نہ ہی بہادر کشمیری مسلمانوں کے حوصلے پست ہوئے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا ’’جیسے جیسے بھارتی ریاستی مظالم میں اضافہ ہورہا ہے اسی طرح کشمیری مسلمانوں کا حصول جذبہ آزادی زیادہ پختہ اور شدید ہورہا ہے‘‘۔ کشمیری مسلمان اپنے بچوں، جوانوں، بزرگوں کے قتل اور خواتین کی عصمت دری جیسے درد انگیز واقعات کے باوجود ٹوٹ کر بکھرے نہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ’’بھارت والو! جان لو ہمیں مار تو سکتے ہو لیکن ہمیں توڑنا تمہارے بس کی بات نہیں‘‘۔کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پوری دنیا میں مذمت کی جاتی ہے لیکن صرف مذمت کافی نہیں ہے بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر کے حالات کو سنجیدگی سے لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔ مسئلہ کشمیر دو ممالک کے درمیان تنازعے کے طورپر ہی نہ دیکھا جائے یہ انسانی حقوق اور خطے کی ترقی و امن امان کا مسئلہ ہے جو دو ایٹمی ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے مقبوضہ کشمیر میں منظم طریقے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا۔ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پر امن حل نکالے۔ کشمیر کی تحریک آزادی علیحدگی کی تحریک نہیں کشمیریوں نے کبھی بھی بھارت کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیر پر قبضہ کیا ہے کشمیری حق خود ارادیت چاہتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اسلحے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو پورا خطہ کشیدگی کا شکار رہے گا۔ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے بھارتی ہٹ دھرمی ہے۔ بھارت نے ریفرنڈم کا فارمولہ خود تسلیم کیا اور بعد میں حملوں و کشمیر کو اپنا اٹو انگ قرار دے دیا۔ بھارت نے اپنا موقف کیوں تبدیل کیا ؟۔ اقوام متحدہ بھی مسئلہ کشمیر کی ذمہ دارہے جو اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہے عالمی برادری اور یورپی طاقتوں نے بھی اس حوالے سے کردار ادا نہیں کیا ۔47ء سے 2018ء تک جموں کشمیر کی تحریک آزادی مختلف مراحل سے گزری، کبھی ریاست میں مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا تو کبھی پرامن سیاسی تحرک۔ ہر دو ریاستیں یعنی پاکستان اور بھارت اس علاقے پر اپنے حق کو جتانے کے لئے جواز رکھتی ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں ریاست میں رائے شماری کروائی جانی چاہیے۔ ہندوستان جو پہلے پہل رائے شماری کا قائل رہا، اب جموں و کشمیر کے الحاق کو قانونی کہتا ہے اور ریاست میں ہونے والے مختلف انتخابات اور ان کے نتیجے میں قائم ہونے والی مختلف حکومتوں کی جانب سے الحاق کی توثیق کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مطابق بھارت مسلسل کشمیر میں حریت پسند جذبات کو کچلنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ ریاستی دہشت گردی جبر و تشدد سے لے کر، آبادی کے تناسب میں تبدیلی، تعلیمی و ثقافتی میدان میں اوچھے ہتھکنڈوں، کشمیر کے اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوانوں کا برین ڈرین اور انہیں تحریک آزادی سے منحرف کرنے کی کوششیں، مقبوضہ وادی کے مسائل کو بدستور قائم رکھ کر لوگوں کو نان و نفقہ کی فکر میں مشغول کرنا اور اس قبیل کے اقدامات عام ہیں۔ برہان مظفر وانی جیسے نوجوان جو آزادی اور الحاق پاکستان کو اپنی زندگی کا ہدف و مقصد سمجھتے ہیں۔ یہ نوجوان اپنی جانیں سبز ہلالی پرچم پر نچھاور کر رہے ہیں۔ ان کا خواب پاک سرزمین ہے، جو ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ مشترکہ دین، ثقافت، تہذیب، اقدار کا رشتہ ان جوانوں کو اپنے سحر میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ مقبوضہ وادی کی قانونی حیثیت، وہاں بھارتی افواج کا تسلط، جبر، ظلم اور بربریت، قیادت کا فقدان، بے روزگاری، نان و نفقہ کے مسائل ان نوجوانوں کے سامنے اس وقت ہیچ ہو جاتے ہیں، جب ان کے ذہن میں یہ تصور آتا ہے کہ ہماری قربانی اپنی ثقافت، تہذیب اور اقدار کے لئے ہے۔ ہمارا لہو پاکستان سے محبت میں بہایا جائے گا۔ پاکستان ان جوانوں کا جنوں ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں مزاحمت اور ابتلا و آزمائش کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ وادی کشمیر ایک آتش فشاں کا روپ دھار چکی ہے۔ بھارت ظلم و جبر کے تمام تیر عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے استعمال کررہا ہے، مگر ہر تیر اور وار خطا ہو رہا ہے۔ بھارت کے کئی سیاسی رہنما یہ بات تسلیم کررہے ہیں کہ وادی میں فوج کا سامنا موت کے خوف سے بے نیاز نسل سے ہے اور اس دردِ سر کا بھارتی فوج کے پاس کوئی علاج نہیں۔ کشمیری اب پاکستانی پرچم کفن بنا کر ڈٹ چکے ہیں، انہیں طفل تسلیوں سے زیادہ عرصے تک بہلایا نہیں جا سکتا۔ انہیں شکایت یہ ہے کہ اس وقت ریاست پاکستان کی پالیسی بھارت نوازی سے لچکی ہوئی شاخ کی مانند ہے اور بھارت کے بجائے حکومتِ پاکستان کو للکارنے اور جگانے کی زیادہ ضرورت ہے۔ کیونکہ کشمیریوں کا بھارت سے گلے شکووں کا کوئی رشتہ و تعلق ہی قائم نہیں۔ وادی کشمیر کا عام مسلمان بھارت کو غاصب سمجھتا تھا اور سمجھتا رہے گا۔ یہ بات بھارت کو پوری طرح معلوم ہے۔ اس لیے کشمیر کا عام آدمی بھارت کے ساتھ ایک جبری ناتے میں بندھا ہوا ہے، مگر کشمیریوں کو پاکستان سے ہر دور میں بے شمار توقعات رہی ہیں۔ ہمیں ان توقعات یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کرنیکی ضرورت ہے۔پانچ فروری کو تو یکجہتی کشمیر والے دن صدر، وزیر اعظم سمیت سبھی حکومتی ذمہ داران کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور ان کی اخلاقی مدد جاری رکھنے کے بیانات داغے جاتے ہیں اگرحکمران ان کشمیریوں کی اخلاقی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں توپھر یہ کوئی اخلاق نہیں ہے کہ آپ کشمیری مسلمانوں کے حق میں دو چار بیانات دے کر خاموش ہو جائیں اور انہیں بھارت کے چنگل میں پھنسا ہو چھوڑ دیں ۔ موجودہ حکمرانوں کو جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم و ستم اور اس کے اصل چہرے کو پوری دنیا پر بے نقاب کرنا چاہئے،عالمی اداروں سے مسئلہ حل کروانے کی توقع رکھنافضول ہے لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانا کرتے ہندو بنیا طاقت کی زبان سمجھتا ہے اس کو اسی زبان میں جواب دینے کی ضرورت ہے۔پا رلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کو چاہئے کہ وہ اپنا رو ل ادا کر ے’’کشمیر بنے گا پا کستان‘‘ کے نعر ے کو بلند کر ے اسی طر ح میڈ یا 5 فرور ی کو کشمیرڈے کے حوا لے سے اس مسئلہ کو تا ریخی، جغرا فیا ئی اور اہل کشمیر کی قر با نیوں کو قوم کے سا منے پیش کر ے ۔ اس حوالہ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں والا دوٹوک اصولی موقف اختیار کیاجائے اور پوری دنیا میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کیا جائے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی بے نقاب کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ 

114 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y9s9u7kq
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *