آنسووں کی روانی

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مہوش احسن
بابا کیا آپ نے پکارا نہیں ہوگا یقیناًپکارا ہوگا آپکی نمناک آنکھیں ڈھونڈھ رہی ہوں گی مجھے دل کی کیفیت بھی بہت جان لیوا ہوگی اتنی تکلیف ہرٹ اٹیک کی نہیں ہوگی جتنی ہماری غیر موجودگی کی ہوگی کبھی آپ مماں کو دیکھتے ہوں گے تو کبھی آسمان کی طرف کیا بیبسی کا عالم ہوگا جب مالک الموت سے آپ نے چند گھڑیاں مانگی ہوں گی کیا کہا تھا بابا آپ نے مہوش تم تو مجھے دیکھ لوگی میں تمھیں نہیں دیکھ سکوں گا آہ بابا میں آپ سے مل نا سکی یہ بوجھ پوری زندگی میرا جگر چیرتا رہے گا میرے تن کو یہ آگ ہمیشہ جلاتی رہے گی جب آپ یادوں کی بھٹی میں جل رہے ہوں گے ہمیں آوازیں دے رہے ہوں گے اور ہم میسر نہیں ہوئے آپکو یہ کرب کیسے جھیلا ہوگا آپ نے باخدا میں خود کو اس غم سے تو شاید ابھار لیتی کے آپ چل بسے ہیں پر میں خود کو اس بوجھ سے نہیں نکال سکوں گی کے آپ کے آخری لمحات میں, میں آپ کے ساتھ نہیں تھی ۔مجھے آج بھی یاد ہے جب رات کو آتے ہوئے آپ میرے لیے رروز گول گپے لے کے آتے تھے اور ایک دن دھند اور ٹھنڈ کی وجہ سے آپکی طبیعت ناساز تھی تو آپ گھر وقت سے پہلے آگئے اور میں روتی رہی کے مجھے گول گپے کھانے ہیں بس اور آپ سائیکل پہ سوار گول گپے لینے چلے گئے اور واپسی پہ ایک گڑھے میں گر گئے اچھی خاصی چوٹ آئی تھی آپکو بابا پر آپ نے اپنے درد کا مجھے کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیا میری ہر خواہش اولین ترجیح پہ رکھی آپ نے بابا آپ نے جاتے ہوئے کتنے غم سے سوچا ہوگا کے میری بچی اب ساری فرمائشیں کس سے کرے گی لب کانپے ہوں گے آپ کے آپ مجھے گلے لگانا چاہتے ہوں گے پر نا تو میں تھی نا میری آواز آپ تک پہنچی بدقسمت تو میں نکلی بابا جو آپ کا آخری بار لمس محسوس نا کر سکی میرے کان تمام عمر گرم سسے کی لپیٹ میں رہیں گے جو یہ آپکی آواز نہیں سن سکے 
کیسا غم پال کے گئے ہوں گے آپ کیسے محسوس کروں میں وہ غم کبھی نہیں کر سکتی آج آپکو اپنے لخت جگروں سے جدا ہوئے گیارہ دن ہو گئے ہیں اور ایسا لگتا ہے ابھی آپ مجھ سے کہیں گے مہوش اپنی مماں سے کہو بس ایک سگریٹ دے دے پینے بس ایک دن میں ایک تو پی ہی سکتا ہوں اور مماں غصے سے کہیں گی کوئی ضرورت نہیں ہے سارا دن کھانستے منہ نہیں ملتا آرام سے رہیں اور پھر میں آپکو چوری چوری سگریٹ لا کے دوں گی ہائے بابا بس ایک بار ایک بار مجھے آواز دیں مجھ سے بات کریں بس ایک بار میرا دل مر رہا ہے آپکی آواز سننے کے لیے ترس رہی ہیں آنکھیں آپکو بس ایک بار ہنستا دیکھنے کے لیے میرے لیے آپ ایک ایسا شجر تھے جو کبھی موسموں کی روانی کے ساتھ بدلہ نہیں جتنی خزائیں اندر سے سہی آپ نے پر میرے لیے ہمیشہ گھنے سایہ دار اور پھلوں پھولوں سے لدھے امرت اور شہد سے بھرے درخت کی طرح رہے آپ میری فکر آپکو زمانے کی ہر شے سے زیادہ رہی ہمیشہ اب کون کرے گا اتنی فکر کس سے کہوں گی دل کی باتیں میں کس کی طرف دیکھ کے اپنی نم آنکھوں کے آنسؤ پونچھوں گی کس کے ساتھ رس چائے میں ڈبو کے کھاؤں گی چلو یہ سب تو کوئی بھی شرکت کر لے گا پر آپکی طرح دعا کون دے گا ہر وقت میری ضرورتوں کی فکر کس کو ہوگی بابا آج الفاظ نہیں مل رہے آپکی یاد میرا گوشہ گوشہ بھیگا رہی ہے میرے ھاتھ کانپ رہے ہیں ایک ایک لفظ سسک رہا ہے آپ کے لیے بابابابا لکھتی ہوں تو روح تک تڑپ جاتی ہے دل کرتا ہے کوئی ایسا کلام ہو جو پڑھوں اور سیدھا آپ کے پاس آ جاؤں کتنا پسند تھا یہ دورد آپکو(الھم صلی علی سیدنا محمد ﷺ160)آج آپ کی زات کے لیے جب پڑھتی ہوں تو تھوڑا سکون مل جاتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو جنت الفردوس عطا فرمائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کی قبر کو منور و کشادہ فرمائے۔160آمین۔میرے بابا آپ کی ہی عکاسی کرتے ہیں یہ اشعار کوئی شک نہیں
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ و جان سے
یہ بات سچ ہے کہ میرا باپ کم نہیں ہے میری ماں سے!
وہ ماں کے کہنے پہ کچھ رعب مجھ پر رکھتا ہے
یہ ہی وجہ ہے کہ وہ مجھے چومتے ہوئے جھجکتا ہے!
وہ آشنا میرے ہر کرب سے رہا ہر دم
جو کھل کے رو نہیں پایا مگر سسکتا ہے!
جڑی ہے اس کی ہر اک ہاں میری ہاں سے
یہ بات سچ ھے کہ میرا باپ کم نہیں ہے میری ماں سے!
ہر اک درد وہ چپ چاپ خود پہ سہتا ہے
تمام عمر سوائے میرے وہ اپنوں سے کٹ کے رہتا ہے!
وہ لوٹتا ہے کہیں رات کو دیر گئے، دن بھر
وجود اس کا پسینہ میں ڈھل کر بہتا ہے!
گلے رہتے ہیں پھر بھی مجھے ایسے چاک گریبان سے
یہ بات سچ ھے کہ میرا باپ کم نہیں ہے میری ماں سے160
اللہ… بس اور کیا لکھ سکتی ہوں بھلا

45 total views, 3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y8r2fjo2
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *